رجسٹرار کی اقلیتی کمیشن میں حاضری،ویب سائیٹ پر بروقت اردو کی شمولیت
… ’سیاست‘ کی تحریک کامیاب …
حیدرآباد۔/28جولائی، ( سیاست نیوز) ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو میڈیم کے انڈر گریجویٹ کورسیس ختم کرنے کے فیصلہ کے خلاف روز نامہ ’سیاست‘ کی تحریک کو کامیابی حاصل ہوئی اور یونیورسٹی نے نہ صرف اردو کورسیس کی بحالی کا فیصلہ کیا بلکہ اپنی ویب سائیٹ پر ذریعہ تعلیم کے زمرہ میں تلگو اور انگریزی کے ساتھ اردو کو شامل کرلیا۔ گزشتہ دو برسوں سے اوپن یونیورسٹی میں انڈر گریجویٹ کورسیس کا اردو میڈیم میں انعقاد کا سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ حکام اردو میں نصابی کتب کی عدم دستیابی کا بہانہ بنارہے تھے۔ اردو میں نصابی کتب تیار کرنے کے بعد کورس کے آغاز کا اعلان کیا گیا لیکن جاریہ سال انڈر گریجویشن کورسیس کیلئے جاری کردہ اعلامیہ میں اردو میڈیم شامل نہیں تھا۔ یونیورسٹی کے اردو دشمن رویہ کو روز نامہ ’سیاست‘ نے بے نقاب کرتے ہوئے حکومت اور اس کے اداروں کو جھنجھوڑنے کا کام کیا۔’سیاست‘ کی خبر کے فوری بعد ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے وائس چانسلر سیتا راما راؤ سے ربط قائم کیا لیکن مسئلہ کی یکسوئی نہیں ہوسکی۔ برخلاف اس کے یونیورسٹی حکام اپنے فیصلہ پر بضد دکھائی دیئے۔ اسی دوران صدر نشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن محمد قمر الدین نے ’سیاست‘ کی خبر کے حوالہ سے یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر وینکٹیا کو نوٹس جاری کی اور اس مسئلہ کی وضاحت کیلئے آج کمیشن کے دفتر طلب کیا۔ کمیشن نے 26جولائی کو نوٹس جاری کی اور رجسٹرار نے 2 دن میں نہ صرف کمیشن کے روبرو حاضری دی بلکہ اردو میں انڈر گریجویشن کورسیس کا آغاز کردیا۔کمیشن کے روبرو رجسٹرار کی آمد کے موقع پر سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور بھی موجود تھے۔ صدرنشین محمد قمر الدین نے اردو میں کورسیس ختم کرنے پر ناراضگی جتائی اور وجوہات طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے ایسے میں ریاست کی یونیورسٹی میں اردو کورسیس میں اضافہ کے بجائے موجودہ کورسیس کو ختم کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے انگلش اور تلگو میڈیم کے ساتھ اردو میڈیم کے فوری آغاز کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اردو کے فروغ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور انہوں نے تمام سرکاری تقررات کے امتحانات اردو میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رجسٹرار پروفیسر وینکٹیا نے اردو نصاب کتب کی تیاری کے سلسلہ میں مترجمین کی کمی کا حوالہ دیا جس پر سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے نصابی کتب کی اردو میں تیاری کے سلسلہ میں ممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مضامین کے ریٹائرڈ پروفیسرس کی خدمات فراہم کرنے تیار ہیں۔ کمیشن کی ہدایت اور اقلیتوں میں پھیلی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے رجسٹرار نے فوری طور پر اردو میڈیم کے آغاز کا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ وہیں سے یونیورسٹی کی ویب سائیٹ پر میڈیم کے زمرہ میں اردو کو شامل کردیا گیا۔ امیدوار تلگو اور انگلش کے ساتھ اردو میں بھی آن لائن درخواستیں داخل کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹی کی ویب سائیٹ پر بی اے اور بی ایس سی کورسیس کیلئے اردو میڈیم کو شامل کیا گیا جبکہ بی کام کے سلسلہ میں ابھی ویب سائیٹ پر ترمیم باقی ہے۔ صدرنشین اقلیتی کمیشن نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں یونیورسٹی حکام سے دوبارہ ربط قائم کریں گے۔ انہوں نے یونیورسٹی حکام کی جانب سے کمیشن کی ہدایت کو فوری قبول کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ کمیشن اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہونے نہیں دیگا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ خود یونیورسٹی کا دورہ کرتے ہوئے اردو میڈیم ذریعہ تعلیم اور نصابی کتب کا جائزہ لیں گے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے رجسٹرار کو یقین دلایا کہ اردو میں نصابی کتب کی تیاری میں اردو اکیڈیمی کا تعاون شامل حال رہے گا۔ اس طرح تلنگانہ کی ایک اہم یونیورسٹی میں اردو میڈیم کی برخاستگی کو ’سیاست‘ کی مہم سے دوبارہ بحال کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔