ملک میں بیالٹ پیپر کا طریقہ کار واپس نہیں آسکتا ۔ مشینوں میںخرابی کو کم سے کم کرنے پر توجہ ۔ سنیل اروڑہ کا انٹرویو
نئی دہلی 20 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے آج واضح کیا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ سیاسی اختلافات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ جدوجہد کی جا رہی ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں رائے دہی کے دوران جو خامیاں کبھی وقوع پذیر ہوتی ہیں ان شکایات کو کم سے کم بنایا جائے ۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب تک خامیوں کو دور کرنے کی جو کوششیں ہوئی ہیں ان سے مطمئن نہیں ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے پیشرفت کر رہے ہیں کہ رائے دہی کے دوران ووٹنگ مشینوں میں خرابی کے چند ایک بھی واقعات پیش نہ آئیں۔ سنیل اروڑہ سابق آئی اے ایس عہدیدار ہیں جنہیں 31 اگسٹ 2017 کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا تھا اور وہ جاریہ سال یکم ڈسمبر کو چیف الیکشن کمشنر بنے تھے جب او پی راوت اس عہدہ سے سبکدوش ہوئے تھے ۔ مسٹر اروڑہ نے کہا کہ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ اور خرابی دو الگ الگ مسئلے ہیں۔ چھیڑ چھاڑ خراب نیت سے کی جاتی ہے جبکہ کچھ خرابی کہیں پیدا ہوسکتی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں جن پانچ ریاستوں مدھیہ پردیش ‘ راجستھان ‘ چھتیس گڑھ ‘ تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات ہوئے ہیںان میں جملہ 1.76 لاکھ پولنگ بوتھ قائم کئے گئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ جو جملہ ووٹنگ مشین یہاں استعمال کئے گئے تھے ان میں بہت کم واقعات خرابی کے سامنے آئے ہیں۔ یہ ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران ہر بوتھ پر ایک مشین کے حساب سے جملہ 1.76 لاکھ ووٹنگ مشین استعمال کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مسلسل یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ رائے دہی کے دوران مشینوں میں خرابی کے چند ایک بھی واقعات پیش نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹنگ مشین صرف وہ مشین ہے جس میں صرف ووٹوں کی گنتی کی جاتی ہے کیا اس کو پروگرام کیا جاسکتا ہے ؟ ‘ بالکل نہیں ۔ یہ بہت واضح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2014 لوک سبھا انتخابات کا نتیجہ کچھ مختلف تھا تو وہیں اس کے فوری بعد دہلی اسمبلی کیلئے منعقدہ انتخابات کا نتیجہ بالکل مختلف رہا ہے ۔ اس کے علاوہ حالیہ پانچ ریاستںو میں ہوئے اسمبلی انتخابات کا نتیجہ بھی مختلف تھا ۔ اس کے علاوہ ضمنی انتخابات کے نتائج بھی کچھ الگ رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ مشین چھیڑ چھاڑ کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر جماعت کیلئے ایک مخصوص نتیجہ ہوتا ہے تو یہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن اگر نتیجہ برعکس ہوتا ہے تو ووٹنگ مشینوں پر اعتراض کیا جاتا ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر اروڑہ نے کہا کہ حالانکہ سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کو نشانہ بنانے کا حق رکھتی ہے اور وہ اس کی غیر جانبداری پر سوال بھی کرسکتی ہیں لیکن انہیں ایک بات سے ضرور تکلیف ہوتی ہے کہ اس کیلئے ووٹنگ مشینوں کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ موقف ہے کہ ملک میں دوبارہ بیالٹ پیپر پر انتخابات نہیں ہونگے اور وہ بھی چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے اسی موقف کو دہرائیں گے کہ بیالٹ پیپر کا طریقہ واپس نہیں آئیگا ۔