… نس بندی اموات …
رائے پور۔/13نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) بلاسپور ضلع کے جس گاؤں میں سرجن نے نس بندی کے 83آپریشن انجام دیئے تھے جن میں سے 12خواتین فوت ہوگئی تھیں اور سرجن کوگرفتار کرلیا تھا، نے آج اپنی صفائی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ قصوروار وہ نہیں بلکہ ضلع انتظامیہ ہے کیونکہ خواتین کی المناک موت کیلئے ناقص ادویات ذمہ دار ہیں جو ریاستی حکومت کی جانب سے سربراہ کی گئی تھیں۔ لاپراسکوپک سرجن ڈاکٹر آر کے گپتا جسے بالوڈا بازار ڈسٹرکٹ میں اس کے رشتہ داروں کے مکان سے گرفتار کیا گیا تھا، نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے اسے اس معاملہ میں پھنسایا ہے جن میںہیلتھ افسران بشمول میڈیکل آفیسر اور بلاک ہیلتھ آفیسر قابل ذکر ہیں جنہیں مساوی طور پر اس المناک واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیئے۔ ڈاکٹر گپتا جنہوں نے موضع پنڈی میں 83خواتین کے نس بندی آپریشن انجام دیئے تھے جن میں سے 12خواتین فوت ہوگئی تھیں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی حالت اسوقت بگڑنا شروع ہوئی تھی جب انہیں درد سے چھٹکارا دینے والی ادویات دی گئی تھیں۔
آپریشن سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اینٹی بائیوٹک کھانے کے کچھ ہی دیر بعد خواتین نے قئے کرنا شروع کردیا تھا اور یہی انفیکشن ان کی موت کی وجہ بنا۔ ڈاکٹر گپتا نے ان اندیشوں کو مسترد کردیا کہ سرجری کرنے میں ان سے کوئی کوتاہی ہوئی یا ناقص آلات کا استعمال کیا گیا، اور کہا کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد موت کی اصل وجوہات از خود سامنے آجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کیمپ میں اچھی ادویات کا استعمال کیا جاتا تو المناک واقعہ رونما نہیں ہوتا۔ خبروں کے مطابق کیمپ میں جو مقامی ادویات سربراہ کی گئی تھیں اُن کی مناسب جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔ لہذا اس واقعہ کے لئے تنہا انہیں ذمہ دار قرار دینا ناانصافی ہے۔ جو الزامات ان پر عائد کئے گئے ہیں وہی دیگر افسران پر بھی عائد کئے جانے چاہیئے، مجھے اس معاملہ میں صرف اس لئے گھسیٹا جارہا ہے کہ انتظامیہ کی نیک نامی پر کوئی آنچ نہ آئے۔ ڈاکٹر گپتا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے بعد کل رات انہیں بالوڈا بازار ڈسٹرکٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔