قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جان لو کہ ذکر الہٰی سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے‘‘۔ ایک مقام پر یہ بھی فرمایا کہ ’’تم میرا ذکر کرو، میں تمہارا ذکر کروں گا‘‘ یعنی بندہ اگر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے یا یہ چاہتا ہے کہ رب العالمین اُسے فراموش نہ کرے تو پس بندے کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہ ہو اور اُٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہے۔
ذکر، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا سبب ہے۔ ذکر چہرہ اور دل کو منور کرتا ہے۔ جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ کی محبت تک اس کی رسائی ہو، اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ اللہ تعالی کا ذکر اس کی محبت کا دروازہ ہے۔ جو راحت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ مصیبت کے وقت اس کو یاد کرتا ہے۔ ذکر، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات کا ذریعہ ہے، سکینہ اور رحمت کے نزول کا سبب ہے۔ ذکر، قیامت کے دن حسرت سے محفوظ رکھتا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’وہ مجلس جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ ہو، قیامت کے دن حسرت اور نقصان کا سبب ہے‘‘۔ ذکر کے ساتھ اگر تنہائی میں رونا بھی نصیب ہو جائے تو پھر وہ قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہوگا، جب کہ اور لوگ گرمی اور تپش سے بلبلا رہے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’پس جس کو میرے ذکر نے دعا سے روک دیا، اس کو میں دعائیں مانگنے والوں سے زیادہ عطا کروں گا‘‘۔ سورۂ حشر میں ارشاد ربانی ہے: ’’تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا، جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے بے پرواہی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی جانوں سے بے پرواہ کردیا، یعنی ان کی عقل ایسی ماری گئی کہ اپنے حقیقی نفع کو نہ سمجھے‘‘۔ جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے ذکر کا دروازہ کھل گیا، اس کے لئے اللہ تعالی تک پہنچنے کا دروازہ کھل گیا اور جو اللہ تعالی تک پہنچ گیا، وہ جو چاہتا ہے پاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا: ’’یا اللہ! تو نے مجھ پر بہت سے احسانات فرمائے، مجھے طریقہ بتادے کہ میں تیرا شکر کس طرح ادا کروں؟‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جتنا بھی تم میرا ذکر کروگے، اتنا ہی شکر ادا ہوگا‘‘۔