القاعدہ خطرہ سے نمٹنے پوری طرح تیار : ائر فورس سربراہ

نئی دہلی 5 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) انڈین ائر فورس کے سربراہ اروپ راہا نے آج کہا کہ حالانکہ القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپس سے خطرہ درپیش ہے لیکن ملک اس سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے ۔ انہوں نے یہ ریمارک اس تناظر میں کیا ہے کہ القاعدہ کی جانب سے ہندوستان کیلئے ایک نئے ونگ کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے ۔ مسٹر راہا ایک سمینار کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تنظیموں سے خطرہ ضرور لاحق ہے لیکن ملک اس کیلئے پوری طرح سے تیار ہے ۔ امریکی میڈیا اور انٹلی جنس ایجنسیوں نے کل کہا تھا کہ القاعدہ نے ہندوستان میں جہاد کیلئے ایک علیحدہ گروپ تشکیل دیا ہے اور اسے قیادت الجہاد کا نام دیا گیا ہے ۔ القاعدہ نے ہندوستانی ذیلی براعظم نے اسلامی خلافت کے احیاء اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا عزم ظاہر کیا ہے ۔ اس گروپ کے قیام کا اعلان القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے ایک ویڈیو کے ذریعہ کیا ہے ۔ القاعدہ افغانستان اور پاکستان میں سرگرم ہے لیکن اس کے لیڈر ایمن الظواہری نے کہا کہ قیادت الجہاد نامی یہ ونگ ہندوستان ‘ میانمار اور بنگلہ دیش میں کام کریگا ۔ سکیوریٹی ایجنسیوں کا یہ احساس ہے کہ القاعدہ کا یہ ویڈیو ذیلی براعظم ہند میں نئی بھرتیاں حاصل کرنے کی کوشش ہے اور یہ گروپ خود کو اسلامی مملکت ( داعش ) کے طرز پر ابھارنا چاہتا ہے ۔ اس دوران مسٹر راہا نے کہا کہ جہاں تک چین کی جانب سے لائین آف کنٹرول کے قریب انفرا اسٹرکچر کی تیاری کا سوال ہے یا پھر لڑاکا طیاروں کے ٹھکانوں کے قیام اور راڈار اسٹیشنوں کے قیام کی بات ہے بڑی حد تک یہ درست ہے لیکن وہ ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ سرحد پر ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ ائر فورس کے تعلق سے مسٹر راہا نے کہا کہ ائر فورس میں سبکدوشی کی عمر میں دو سال کے اضافہ کی ایک تجویز پر غور کیا جارہا ہے لیکن ابھی تک ائر فورس نے حکومت کو اس تعلق سے کوئی تجویز روانہ نہیں کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ائر فورس کی جانب سے رائے گڑھ ‘ اوجھر اور کارگل کے علاوہ جموں و کشمیر میں نیوما کے مقام پر چار مکمل ائر بیس تعمیر کئے جائیں گے ۔ انہوں نے انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے تعلق سے کہا کہ شمال مشرق میں ائر فورس کی جانب سے عصری لینڈنگ گراونڈز تیار کئے جا