الزامات ثابت ہونے پر وزارتی عہدہ اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ

نئی دہلی۔/12مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ( کاگ ) رپورٹ پر اپوزیشن کے غم و غصہ کا شکار مرکزی وزیر نیتن گڈکری نے آج راجیہ سبھا میں یہ ادعا کیا ہے کہ انہوں نے کوئی بھی غلط کام نہیں کیا ہے اگر ان کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہوجانے پر بحیثیت وزیر اور رکن پارلیمنٹ استعفی دینے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے وقفہ صفر کے دوران کاگ رپورٹ پر بحث کے دوران یہ جواب دیا جبکہ رپورٹ میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ نیتن گڈکری کے رشتہ دار کی ایک کمپنی پورتی گروپ کو بینکوں سے قرضوں کی منظوری میں بے قاعدگیوں کا ارتکاب کیا گیا ۔ مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ شپنگ نے کہا کہ اگر دنیا کی کسی بھی عدالت میں یہ ثابت کردیا جائے کہ میں نے ایک روپیہ کا بھی غبن کیا ہے تو وزارتی عہدہ اور پارلیمنٹ کی رکنیت سے مستعفی ہوجاؤں گا۔انہوں نے بتایا کہ میرے حق میں کوئی جانبداری نہیں برتی گئی، اور کاگ رپورٹ میں میرے خلاف کرپشن کے کوئی الزآمات عائد نہیں کئے گئے ہیں جبکہ اس رپورٹ کا غلط مفہوم نکال کر سیاسی مفادات میں گمراہ کیا جارہا ہے۔ مسٹر نیتن گڈکری نے کاگ رپورٹ پر کئی دنوں سے جاری تنازعہ پر دوسری مرتبہ ایوان میں بیان دیا ہے

جبکہ کانگریس ارکان نے کہا کہ وہ کل کے بیان کی سماعت نہیں کرسکتے۔کانگریس نے مذکورہ الزامات پر نیتن گڈکری سے استعفی کے مطالبہ پر گزشتہ تین یوم سے راجیہ سبھا کی کارروائی مفلوج کردی تھی اور آج بھی کاگ رپورٹ میں نشاندہی کردہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کیلئے کانگریس کے اصرار سے ایوان کی کارروائی میں مسلسل رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ اپنے یا پی ایس کے ایل ( پورتی شنکر کاخانہ لمیٹیڈ ) کی جانب سے کوئی غلط کام کرنے کی تردید کرتے ہوئے مرکزی وزیر نیتن گڈکری نے اپوزیشن سے کہا کہ انہوں نے ہر ایک سوال کا جواب دیا ہے اور کئی مرتبہ وضاحت پیش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب چاہیں جس قدر چاہیں سوالات کرتے جاؤ میں جواب دینے کیلئے تیار ہوں لیکن اس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی تو یہ معاملہ دوسرا ہوجائے گا۔ اپنی خود مدافعت کرتے ہوئے مہاراشٹرا سے وابستہ بی جے پی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ وہ بنیادی سطح سے کام کرتے ہوئے آج اس مقام پر پہنچے ہیں ،

وہ کوئی کاغذی لیڈر نہیں بلکہ بائیو ڈاٹا پیش کرکے وزیر بن گئے ہیں۔ قبل ازیں مرکزی وزیر نیتن گڈکری سے استعفی کے مطالبہ راجیہ سبھا میں آج تیسرے دن بھی اپوزیشن نے کارروائی مفلوج کردی اور اس مطالبہ پر کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے واک آؤٹ کردیا۔ راجیہ سبھا کی کارروائی لنچ سے قبل 5مرتبہ ملتوی کردی گئی جبکہ لوک سبھا میں کانگریس ارکان نے کاگ رپورٹ میں دھاندلیوں کے الزامات کے پیش نظر مرکزی وزیر نیتن گڈکری سے استعفی کا مطالبہ پر احتجاج کیا۔ لوک سبھا میں کانگریس رکن دپیندر ہوڈا نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ کاگ رپورٹ میں 12.7 کروڑ کے مالیاتی گھپلے کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا تعلق نیتن گڈکری سے ہے جس پر بی جے پی ارکان نے جوابی احتجاج کیا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ کوئی غلط کام نہیں کیا گیا ہے، کاگ کی رپورٹ حسب معمول ہے جس پر غور و خوض کیلئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے رجوع کیا گیا ہے۔