ماریا فرنانڈا اسپینوزا صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کا بیان ‘ موجودہ مستقل ارکان سے مذاکرات میں پیشرفت کی خواہاں ہونے کا ادعا
اقوام متحدہ ۔ 7اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا عمل سیاسی عزم اور رکن ممالک کی وابستگی پر منحصر ہے۔ موجودہ پانچ مستقل ارکان کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ضروری ہے ۔ جنرل اسمبلی کی صدر ماریا فرنانڈا اسپینوزا نے آج کہاکہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ مذاکرات میں پیشرفت کیلئے اچھے تعاون کرنے والے افراد کو شامل کریں ۔ ہندوستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا ایک عرصہ سے مطالبہ کررہا ہے ۔ اس کا ادعا ہے کہ وہ کونسل میں اصلاحات اور توسیع کی صورت میں ہندوستان کو مستقل رکن کی حیثیت سے نشست دینا ضروری ہے ۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو 21ویں صدی عیسوی کے تقاضوں کی تکمیل کرنا چاہیئے اور سلامتی کونسل میں اصلاحات اہمیت رکھتی ہیں ۔ صدر سلامتی کونسل نے کہاکہ اصلاحات کا انحصار رکن ممالک کے سیاسی عزم اور وابستگی پر ہے ‘ تاہم بحیثیت صدر وہ اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ جہاں تک اُن سے ممکن ہوسکے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے ساتھ بات چیت میں پیشرفت ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس میں اپنا حصہ ادا کریں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ تعاون کرنے والے سہولت کنندہ حاصل ہوسکے ‘ وہ پی ٹی آئی کو انٹرویو دینے کے دوران ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں ‘ جو طویل عرصہ سے 15رکنی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے دیرینہ مطالبہ کے بارے میں تھا ۔ سوال کیا گیا تھا کہ وہ بات چیت کے عمل کے ذریعہ جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں مذاکرات کی کس قسم کی پیشرفت کی توقع کرتی ہیں ۔ اسپینوزا نے جو ایکویڈور کی سابق وزیر خارجہ ہیں اور جون میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73اجلاس کے دوران اس کی صدر منتخب ہوئیں تھیں ۔ اس طرح وہ 193رکنی تنظیم کی 73سالہ تاریخ میں چوتھی خاتون صدر بن گئیں ۔ وجئے لکشمی پنڈت نامور ہندوستانی سفارتکار اور سابق وزیر اعظم جواہرلال نہرو کی بہن پہلی خاتون تھیں جنہیں جنرل اسمبلی کی صدر 1953 ء میں منتخب کیا گیاتھا ۔ بعد ازاں لیباریا کی اینجل الزبتھ بروکس 1969ء میں اور شیخہ حیاراشد الخلیفہ جن کا بحرین سے تھا 2006ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی خاتون صدر منتخب ہوئیں تھیں ۔ اسپینوزا نے کہاکہ ان کی 7ترجیحات میں سے اقوام متحدہ کی اصلاحات بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ہے لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ دیگر اہم مسائل پر بھی توجہ دی جانی چاہیئے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاحات سے یہ غلط پیغام نہیں جانا چاہیئے کہ اس سے جھوٹی توقعات وابستہ رکھی جاسکتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ 25سال سے جاری عمل ہے ۔ بین حکومتی مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنے ملک کی سفیر تھیں جبکہ اصلاحات کی قرارداد منظور کی گئی تھی ۔