نیویارک۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ تنازعات کو روکنے کے لئے عالمی ادارے کے منشور کے باب چھ کے تحت اپنی سفارت کاری کو بھرپور انداز میں روبہ عمل لائے۔ سلامتی کونسل کو نئے بحران پیدا کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے جب کہ کسی تنازعہ کو روکنے کے بہانے مداخلت سے بھی گریز کیا جانا چاہئے، لیکن کسی تنازعہ کو سلامتی کونسل میں زیر بحث لانے کے لئے اس کے رونما ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا جانا چاہئے۔ غزہ جیسی صورتِ حال میں سلامتی کونسل کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے سلامتی کونسل میں ’’تنازعات کو رونما ہونے سے پہلے روکنے‘‘ کے موضوع پر کھلی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کشیدگی کے خاتمے اور نئے تنازعات کو سامنے آنے سے روکنے کے لیے باب چھ کے تحت ثالثی، سفارت کاری، تحقیقات، عدالتی فیصلوں، علاقائی تنظیموں سے مدد اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے عہدے جیسے وسائل کو بھرپور انداز میں روبہ عمل لائے۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ ماضی قریب میں سلامتی کونسل کے بارے میں عام تاثر یہ رہا ہے کہ وہ تنازعات اور کشیدگی کے بارے میں باب سات کے تحت قراردادیں منظور کرتی ہے، لیکن بعض مواقع سلامتی کونسل سے فوری اقدام کا تقاضہ کرتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد میں امتیازی انداز اختیار کیا گیا تو اس کی ساکھ متاثر ہوگی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کو نئے تنازعات کے بارے میں قراردادوں کی منظوری اور اقدام کے ساتھ ساتھ ان قراردادوں پر عملدرآمد کے بارے میں اقدام بھی کرنے چاہئیں جن پر طویل عرصے سے عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ سلامتی کونسل کو عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی کے اُصول کا بھی مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انھوں نے سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ ایسے تنازعات میں فوری مداخلت سے گریز کرے جہاں فریقین اس تنازعہ کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرسکتے ہیں یا جہاں علاقائی تنظیمیں اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔