نئی دہلی۔10اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف ہندوستان کی جانب سے ووٹ دینے کے چند دنوں بعد اسرائیل نے آج ’’ توقع ظاہر کی کہ ہندوستان کے فیصلہ سے دفاع اور سلامتی کے حکمت عملی والے شعبوں میں ہند۔ اسرائیل تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ‘ دونوں علاقوں میں تعلقات مستحکم ہیں۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران دونوں ملکوں میں روابط کو مزید فروغ حاصل ہوا ہے ۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ حکومت ہند کے ساتھ مختلف سطحوں پر اسرائیل کے روابط ہیں۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف ہندوستان کے ووٹ دینے سے قبل اور بعد بھی ان مختلف سطحوں کی دوستی میں کوئی فرق نہیں آیا ہے ۔ اسرائیل کے نوتقررکردہ سفیر برائے ہند ڈانیل کیرمون نے کہاکہ عالمی مصالحت کاروں میں بہترین مفاہمت و سمجھداری پائی جاتی ہے تاہم کیرمون نے ‘ جنہوں نے 10دن قبل ہی نئی دہلی میں سفیر برائے ہند کا جائزہ لیا ہے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا انہوں نے ہندوستانی مصالحت کاروں کو اسرائیل کی ناراضگی سے واقف کروایا ہے ۔ یروشلم کے خلاف ہندوستان کی جانب سے ووٹ دینے کے بعد اسرائیل نے ناراضگی ظاہر کی تھی ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان میں موجود مصالحت کاری کے تمام بہی خواہوں ہی نے اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے اور بتایا کہ اس لڑائی کے بارے میں ہمارا کیا احساس ہے ۔ اقوام متحدہ پر اسرائیل کو ذلیل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے اسرائیلی سفیر نے کہا کہ میں رائے دہی اور قرارداد کی منظوری کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ کئی سالوں سے اقوام متحدہ میں یہی کچھ ہوتا آرہا ہے ۔ اقوام متحدہ ہر مسئلہ کو سیاسی رنگ دیتا ہے ۔ ہم کو کسی بھی قرارداد پر عالمی برادری کی رائے دہی کے نتیجہ کی کوئی پرواہ نہیں ہے ‘ ہم اپنے مصالحت کاروں کو سمجھانے اور انہیں مطمئن کرانے کے مشن پر ہیں ۔ ہم کو توقع ہے کہ ہمارے دوست ملک اور بہی خواہ ہماری بات کو سمجھ جائیں گے ۔ ساری دنیا میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اسرائیل کو اس مفادات کے تحفظ کا حق ہے ۔ ہندوستان کے وزیراعظم اندرا گاندھی کے دور تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات بھی نہیں تھے ۔ پنڈت نہرو کے دور سے اندرا گاندھی کے دور حکومت تک حکومت ہند کی پالیسی فلسطین حامی اور اسرائیل مخالف رہی ہے ۔ وزیراعظم نرسمہا راؤ کے دور میں پہلی بار اسرائیل سے تعلقات قائم ہوئے ۔