اقلیتی کارپوریشن کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹر پر رشوت کے الزامات

دفتر اور مکان پر دھاوے، فائیلوں کی ضبطی،تحقیقاتی رپورٹ کے بعد کارروائی

حیدرآباد۔/13مارچ، ( سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیمات پر عمل آوری میں بڑے پیمانے پر رشوت کی شکایات کے بعد رنگاریڈی کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹر ضلع رنگاریڈی عبدالحمید کے دفتر اور مکان پر دھاوا کرتے ہوئے کئی فائیلوں کو ضبط کیا گیا اور ان کے دفتر کو مُہربند کردیا گیا۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور نے رنگاریڈی کے مختلف علاقوں کے عوام کی جانب سے مسلسل شکایات کی وصولی کے بعد یہ کارروائی کی اور ابتدائی تحقیقات کے دوران رقومات کی وصولی کے الزامات ثابت ہوچکے ہیں۔ اس عہدیدار نے غیرمجاز طور پر اپنی قیامگاہ پر 56ایسی فائیلوں کو رکھا تھا جن کیلئے بینکوں نے قرض کی منظوری سے اتفاق کرلیا ہے۔ اس طرح کی فائیلوں کو روک کر وہ درخواست گذاروں سے ہزاروں روپئے رقومات حاصل کررہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ جنرل منیجر ولایت حسین اور ریجن منیجرس عابد علی اور امجد پاشاہ پر مشتمل ٹیم نے آج صبح اچانک ای ڈی کے دفتر پر دھاوا کیا اور فائیلوں کو ضبط کرلیا۔ دفتر میں موجود عوام اور اسٹاف کے بیانات ریکارڈ کئے گئے جس میں ایکزیکیٹو ڈائرکٹر کے خلاف کئی شکایات شامل ہیں۔ دفتر کے اسٹاف نے نشاندہی کی کہ کئی استفادہ کنندگان کی فائیلوں کو عہدیدار نے اپنی قیامگاہ منتقل کردیا ہے۔

عہدیداروں کی ٹیم ایکزیکیٹو ڈائرکٹر کی قیامگاہ پہنچی اور 56فائیلوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ منیجنگ ڈائرکٹر نے بتایا کہ کارپوریشن کی بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی فراہمی سے متعلق خود روزگار اسکیم کے سلسلہ میں ضلع رنگاریڈی کیلئے 1561 افراد کو سبسیڈی کی اجرائی کا نشانہ مقرر کیا گیا۔ضلع کلکٹر رنگاریڈی نے18فبروری کو 950 درخواستوں کو منظوری دے دی جنہیں بینکوں نے قرض جاری کرنے سے اتفاق کیا تھا۔ لیکن متعلقہ عہدیدار امیدواروں سے رقومات حاصل کرکے منظوری کا مکتوب حوالہ کررہے تھے۔ پرگی، وقارآباد اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے اس سلسلہ میں منیجنگ ڈائرکٹر سے شکایت کی جس پر آج اچانک کارروائی کی گئی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ عہدیدار سابق میں دو مرتبہ اسی طرح کے الزامات کے تحت معطل ہوچکا ہے۔ گذشتہ مرتبہ ضلع اننت پور کے کلکٹر نے انہیں معطل کیا تھا۔ وہ گذشتہ چھ ماہ سے رنگاریڈی میں فینانس کارپوریشن کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ضلع رنگاریڈی میں واقع تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں نے بھی حکومت سے شکایت کی تھی کہ متعلقہ ای ڈی کی جانب سے طلبہ کے اسکالر شپ اور فیس باز ادائیگی کی منظوری کے سلسلہ میں بھی بھاری رقومات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ تحقیقات کے دوران بعض ایسی دھاندلیوں کا بھی پتہ چلا جو فینانس کارپوریشن میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے۔ کارپوریشن کے تحت ڈیری فارم کے قیام کیلئے ڈھائی لاکھ روپئے کے قرض کی اسکیم موجود ہے

جس میں ایک لاکھ روپئے سبسیڈی کارپوریشن فراہم کرتا ہے لیکن مذکورہ عہدیدار نے بے قاعدگیوں کے ذریعہ بعض درخواست گذاروں کو 10 لاکھ روپئے تک قرض کی منظوری کے دستخط ضلع کلکٹر سے حاصل کرلئے۔ ان تمام الزامات پر مشتمل رپورٹ تیار کی جارہی ہے جو کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال کو پیش کی جائے گی۔ حکام نے مذکورہ ایکزیکیٹو ڈائرکٹر کو فوری عہدہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم مکمل رپورٹ ملنے کے بعد ہی مزید کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔پروفیسر ایس اے شکور نے اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال کو تفصیلات سے واقف کرایا۔ ان دونوں عہدیداروں نے کہا کہ بے قاعدگیوں اور کرپشن میں ملوث کسی بھی عہدیدار کو بخشا نہیں جائے گا۔