اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنے حکومت سے سفارش

عمر کے اندراج میں تحریف پر سی آئی ڈی کی تحقیقات ، حکومت کو رپورٹ کی پیشکشی
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) پولیس کے شعبہ سی آئی ڈی نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایک عہدیدار کے خلاف تحقیقات مکمل کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔ عمر کے اندراج میں تحریف کے ذریعہ گزشتہ دو برسوں سے عہدہ پر برقرار رہنے والے اس عہدیدار کے خلاف کارروائی کی حکومت سے سفارش کی گئی ہے۔ انسپکٹر جنرل و ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس کرائم انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ ( سی آئی ڈی ) نے تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو پیش کردی۔ تحقیقات میں ثابت ہوچکا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں جنرل منیجر کے عہدہ پر فائز عہدیدار غلط تاریخ پیدائش کے ذریعہ عہدہ پر برقرار ہیں۔ انہیں صحیح تاریخ پیدائش کے مطابق فبروری 2011 میں وظیفہ پر سبکدوش ہوجانا چاہیئے۔ رپورٹ میں سی آئی ڈی نے سفارش کی کہ اگر انہیں تحریف شدہ تاریخ پیدائش کے مطابق جنوری 2016ء تک خدمات پر برقرار رکھا گیا تو اس سے سرکاری خزانہ کو بھاری نقصان ہوگا۔ تحقیقات میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مذکورہ عہدیدار کی تاریخ پیدائش 19جنوری 1953ہے اور ریکارڈ میں تحریف کرتے ہوئے اسے 1958 میں تبدیل کردیا گیا اور وہ عہدہ پر برقرار ہیں جبکہ انہیں جنوری 2011 ء میں ہی ریٹائر ہوجانا چاہیئے۔ سی آئی ڈی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ فبروری 2011 سے 31 اکٹوبر 2014تک مذکورہ عہدیدار نے 53لاکھ 32ہزار 211 روپئے تنخواہ کے طور پر حاصل کئے ہیں۔ سی آئی ڈی نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایک سابق ملازم کی شکایت پر اس معاملہ کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کی قیادت میں تشکیل دی گئی سی آئی ڈی ٹیم نے گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول عالیہ، کنٹرولر آف اگزامنیشن عثمانیہ یونیورسٹی، پرنسپل گورنمنٹ پالی ٹیکنک کالج رامنتا پور، منیجنگ ڈائرکٹر سٹ ون اور نائب صدر نشین و منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن سے پوچھ تاچھ کی اور ان اداروں سے حاصل کی گئی دستاویزات کے مطابق یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ عہدیدار کے پیدائشی سال میں تحریف کرتے ہوئے 53کو 58 بنایا گیا۔ کنٹرولر آف اگزامنیشن عثمانیہ یونیورسٹی نے اس بات کی تصدیق کی کہ یونیورسٹی میں موجود دستاویزات کے مطابق پیدائشی سال 1953ہے اور پالی ٹیکنک اور اسکول کے ریکارڈ سے بھی اس کی تصدیق ہوئی۔ سی آئی ڈی کی یہ رپورٹ حکومت کو پیش کی گئی اور حکومت اس کا جائزہ لے رہی ہے۔