اقلیتی فینانس کارپوریشن کی سبسیڈی اسکیم، 15 اپریل ادخال درخواست کی آخری تاریخ

بی سی ویلفیر اسکیم میں توسیع، اقلیتوںکی اسکیم نظرانداز، بجٹ کا بھی تاحال عدم اجراء

حیدرآباد۔/11اپریل، ( سیاست نیوز) اقلیتی فینانس کارپوریشن کی سبسیڈی اجرائی سے متعلق اسکیم کیلئے درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ 15اپریل ہے اور اس میں توسیع کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ حکومت نے بی سی ویلفیر ڈپارٹمنٹ کو سبسیڈی سے متعلق درخواستوں کی جانچ اور منظوری کیلئے مزید تین ماہ کا وقت لیا ہے تاہم محکمہ اقلیتی بہبود کو اس طرح کی کوئی مہلت نہیں دی گئی جس کے باعث درخواستوں کی جانچ اور بینکوں سے قرض فراہم کرنے میں کارپوریشن کو دشواریاں ہوسکتی ہیں۔ گزشتہ سال یعنی 2014-15 کی بینکوں سے مربوط قرض پر سبسیڈی کی فراہمی اسکیم پر عمل آوری کا جاریہ مالیاتی سال آغاز ہوا جبکہ جاریہ سال کی اسکیم کے آغاز میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ گزشتہ سال کی سبسیڈی فراہمی اسکیم کیلئے بجٹ میں 95کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جس میں سے کرسچین فینانس کارپوریشن کو 10کروڑ الاٹ کئے گئے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے حصہ میں 84کروڑ روپئے کی منظوری آئی تاہم حکومت نے مالیاتی سال کے اختتام تک صرف 20کروڑ روپئے ہی جاری کئے۔ اقلیتی بہبود کے عہدیدار اگرچہ اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ سبسیڈی کی اسکیم چونکہ جاریہ اسکیم ہے لہٰذا محکمہ فینانس سے مابقی رقم کی اجرائی کی منظوری حاصل کی جاسکے تاہم اس بات کے امکانات کم ہیں کیونکہ غیر استعمال شدہ بجٹ سرکاری خزانہ میں واپس ہوچکا ہے۔ فینانس کارپوریشن نے اس اسکیم کے تحت 8000 افراد کو سبسیڈی کی فراہمی کا نشانہ مقرر کیا تھا تاہم ابھی تک 16000سے زائد درخواستیں داخل کردی گئیں اس طرح بجٹ کی کمی کے سبب فینانس کارپوریشن تمام درخواست گذاروں کو سبسیڈی فراہم کرنے کے موقف میں نہیں رہے گا۔ درخواستوں کی جانچ بینکوں سے منظوری کا حصول اور دیگر ضروری کارروائیوں کے سلسلہ میں کارپوریشن کو کم از کم 3ماہ کا وقت درکار ہوگا لیکن حکومت نے اس طرح کی کوئی مہلت نہیں دی ہے۔ ایک طرف درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ میں توسیع کا امکان نہیں۔ دوسرے درخواستوں کی منظوری کی مہلت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ لہٰذا گزشتہ سال کی اسکیم پر جاریہ سال جلد از جلد عمل آوری کرنا کارپوریشن کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال سبسیڈی فراہمی اسکیم کیلئے 100کروڑ روپئے کا بجٹ رکھا ہے تاہم بجٹ کی اجرائی کا ابھی تک آغاز نہیں ہوا۔ اسی دورن 2014-15کی ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم پر عمل آوری کا آغاز کیا جارہا ہے اور سرکاری ادارہ کے ذریعہ 34 کورسیس میں اقلیتی امیدواروں کو ٹریننگ کی تجویز ہے۔ اس اسکیم کیلئے 2کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ حکومت نے جاریہ سال ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم میں پیرا میڈیکل کورسیس اور اِسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق کورسیس کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔