سینکڑوں افراد کی اقلیتی فینانس کارپوریشن پر آمد ، دفتر پر موثر جوابداہی کا فقدان
حیدرآباد۔/12فبروری، ( سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ کو جاریہ سال مرکزی حکومت کی اسکالر شپ کی اجرائی میں تاخیر اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیمات پر تاحال عمل آوری نہ ہونے کے سبب اقلیتوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ اسکالر شپ اور دیگر اسکیمات کے سلسلہ میں روزانہ طلبہ اور غریب اقلیتی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کارپوریشن کے دفتر آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس کے تحت مرکزی حکومت کی اسکالر شپ جاری کردی گئی جبکہ پری میٹرک اسکالر شپ کی اجرائی کا کام ابھی جاری ہے۔ اس کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے میچنگ گرانٹ کا انتظار ہے۔ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی اہم اسکیمات میں بینک قرض سے متعلق سبسیڈی کی اجرائی اور ٹریننگ و ایمپلائمنٹ اسکیم شامل ہے جن پر عمل آوری کا ابھی تک آغاز نہیں ہوا۔ اب جبکہ مالیاتی سال کا اختتام قریب ہے اسکیمات کا آغاز نہ ہونے کے سبب اقلیتوں میں کافی مایوسی پائی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے سبسیڈی کی اجرائی اسکیم کے تحت76کروڑ روپئے بجٹ میں مختص کئے جس میں سے 12کروڑ 34لاکھ روپئے جاری کردیئے گئے لیکن اسکیم کا آغاز نہ ہونے کے سبب یہ رقم خرچ نہیں ہوپائی اور ایک ماہ بعد یہ رقم سرکاری خزانہ میں واپس ہوجائے گی۔ ٹریننگ اینڈ ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت بجٹ میں 16کروڑ روپئے مختص کئے گئے لیکن یہ رقم ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔ اقلیتی اسکیمات سے استفادہ کے خواہشمندوں اور اسکالر شپ کی عدم اجرائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے پہنچنے والے افراد نے شکایت کی کہ انہیں عہدیداروں کی جانب سے اطمینان بخش جواب نہیں دیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال کی سبسیڈی کی منظوری کے باوجود ابھی تک رقم منتخب امیدواروں کے اکاؤنٹ میں نہیں پہنچی جبکہ متعلقہ بینک فینانس کارپوریشن کی جانب سے عدم اجرائی کی شکایت کررہے ہیں۔ طلبہ اور سبسیڈی اسکیم کے منتخب امیدواروں نے شکایت کی کہ وہ حقیقی صورتحال کے سلسلہ میں جب کارپوریشن کے دفتر رجوع ہوتے ہیں تو وہاں اکثر عہدیدار نشستوں پر موجود نہیں رہتے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ سکریٹریٹ گئے ہیں۔ عوام نے شکایت کی کہ کئی گھنٹوں تک انتظار کے باوجود متعلقہ عہدیدار اپنی نشست پر واپس نہیں ہوتے۔خواتین اور طالبات کی بھی کثیر تعداد روزانہ کارپوریشن کے دفتر پہنچ کر مایوس واپس ہورہی ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ آخر روزانہ سکریٹریٹ میں ایسا کیا کام ہے کہ عہدیدار عوام کیلئے دستیاب نہیں رہتے۔ حکومت ایک طرف اقلیتی اسکیمات کے بارے میں عوام میں شعور بیداری کی مہم چلارہی ہے تو دوسری طرف اقلیتی بہبود کے دفاتر جہاں سے اسکیمات پر عمل آوری کی جاتی ہے عہدیداروں کی بے اعتنائی اور غفلت کے سبب عوام کو مایوسی کا سامنا ہے۔