اقلیتی طلبہ مرکزی حکومت کے اسکالر شپس سے محروم

حیدرآباد ۔ 18 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : حکومت ہند کی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے اقلیتی طلبہ کو فراہم کی جانے والی اسکالر شپس سے ریاست تلنگانہ کے طلبہ اب بھی محروم ہیں جب کہ تعلیمی سال کے اختتام کے لیے چند ماہ رہ گئے ہیں بلکہ بیشتر طلبہ کے امتحانات ماہ مارچ میں مکمل ہوجائیں گے ۔ حکومت ہند کی جانب سے جاری کی جانے والی اسکالر شپس کی رقومات ریاست تلنگانہ میں اسکیم پر عمل آوری کرنے والے ادارے تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو وصول ہوچکی ہیں لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے اس اسکیم کو قابل عمل بنانے کے لیے ادا شدنی 25 فیصد حصہ جاری نہ کئے جانے کے سبب یہ رقومات طلبہ کو جاری نہیں کی جارہی ہیں ۔ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن جو کہ مرکزی حکومت کی اسکالر شپس برائے پوسٹ و پری میٹرک کے علاوہ میرٹ کم منس کی اسکیم کو ریاست میں قابل عمل بنانے کے لیے ذمہ دار ادارہ ہے اس ادارے کو فی الحال تقریبا 30 کروڑ روپئے موصول ہوچکے ہیں جو کہ مرکزی حکومت کی جانب سے مختص کردہ ہیں ۔ حکومت ہند کی اسکالر شپس برائے پری و پوسٹ میٹرک و میرٹ کم منس کے لیے بجٹ میں ریاست کا حصہ ادا کرنا ہوتا ہے اور ریاست کا حصہ شامل کرنے کے بعد ہی یہ اسکالر شپس جاری کی جاسکتی ہیں ۔ ان اسکالر شپس کی اجرائی تعطل کا شکار ہونے کی بنیادی وجہ ریاست کے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اختیار کردہ رویہ ہے جب کہ سابق میں کارپوریشن مرکزی حکومت کو ریاست کے حصہ کی اجرائی کی تفصیلات روانہ کرتے ہوئے بجٹ حوالے کرنے کی درخواست کیا کرتا تھا لیکن اس مرتبہ مرکزی حکومت کی جانب سے بجٹ کی اجرائی کے بعد بھی ریاست کی جانب سے گرانٹ کی عدم اجرائی کے سبب طلباء و طالبات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے طلباء و طالبات جو کہ ریاست کی اسکالر شپس سے بھی محروم ہیں انہیں مرکزی حکومت کی اسکالر شپس بھی محکمہ اقلیتی بہبود کی لاپرواہ کارکردگی کے سبب حاصل نہیں ہورہی ہیں ۔ حکومت کی جانب سے مختص کئے جانے والے بجٹ و اجراء کردہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ملازمین و عہدیدار ریاستی حکومت سے گرانٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں حکومت ہند کی جانب سے حاصل ہوئے 30 کروڑ کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے اور مستقبل کے بجٹ میں عدم اخراجات کی بنیاد پر تخفیف بھی ہوسکتی ہے ۔ مرکزی حکومت کے محکمہ اقلیتی امور کی اسکیم سے استفادہ کرنے کے خواہش مند طلبہ جنہوں نے تعلیمی سال 2014-15 میں اسکالر شپس کے لیے درخواستیں داخل کی ہیں ان درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بناتے ہوئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے مختص کردہ اقلیتی بجٹ 1030 کروڑ کے ایک حصہ کو خرچ کرنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔ حکومت تلنگانہ کو چاہئے کہ وہ اقلیتی طبقات سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے فوری گرانٹ جاری کرے تاکہ مرکز کی جانب سے روانہ کردہ تقریبا 30 کروڑ کی رقم کو جو کہ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے پاس جمع ہیں انہیں طلبہ میں تقسیم کرنے کی راہ ہموار کی جاسکے ۔ ریاست تلنگانہ کے ہزاروں طلبہ نے حکومت ہند کی اس اسکیم سے استفادہ کرنے کے لیے درخواستیں داخل کی تھیں جس میں بیشتر درخواستیں منظور ہوچکی ہیں لیکن تاحال منظورہ درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے انہیں رقومات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی جس سے طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے ۔۔