اقلیتی بہبود کے شکایتی سیل پر اسکالر شپس کی شکایتیں

حیدرآباد 6 جنوری (سیاست نیوز )محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں کی شکایات اور مسائل کی سماعت کے سلسلہ میں شکایتی سیل کا اجلاس آج حج ہاوز میں منعقد ہوا۔ عوامی مسائل کی سماعت اور بروقت یکسوئی کیلئے قائم کردہ اس شکایتی سیل کا آج 63 واں اجلاس تھا ۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن محمد ہاشم شریف، سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور ،چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد عبدالحمید کے علاوہ کرسچن فینانس کارپوریشن حج کمیٹی اردو اکیڈیمی اور وقف بورڈ کے عہدیدار اجلاس میں شریک تھے۔ وقف بورڈ اور اقلیتی فینانس کارپوریشن سے متعلق بعض شکایات کے ساتھ عوام شکایتی سیل سے رجوع ہوئے اور عہدیداروں نے مسائل کی عاجلانہ یکسوئی کا تیقن دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود اور کمشنر اقلیتی بہبود شکایتی سیل کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تا کہ عوام زیادہ سے زیادہ اپنے مسائل کے ساتھ اعلی عہدیداروں سے رجوع ہوں۔

عوام کو مختلف دفاتر پہنچ کر مسائل رجوع کرنے سے بچانے کیلئے ایک ہی مقام پر تمام عہدیداروں کو موجود رکھنے کیلئے شکایتی سیل کا آغاز کیا گیا تھا۔ شکایتی سیل میں زیادہ تر شکایات اسکالر شپ کی عدم وصولی سے متعلق دیکھی گئی ہیں گذشتہ دو برسوں کے دوران اسکالرشپ کی عدم ادائیگی پر کئی طلبہ روزانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ فینانس کارپوریشن کے عہدیدار محکمہ سماجی بھلائی کی جانب سے اسکالر شپس کی عدم اجرائی کا بہانہ بنا رہے ہیں ۔ اسی دوران مرکزی حکومت کی پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کے تحت 2012-13 کے دوران تاحال 51 کروڑ 49 لاکھ 10 ہزار 208 روپئے جاری کئے گئے اور یہ رقم 2لاکھ 32 ہزار 90 طلبہ میں تقسیم کی گئی ۔ پری میٹرک اسکالر شپ کے تحت 36 کروڑ 43 لاکھ 71 ہزار 925 روپئے 1 لاکھ 91 ہزار 646 طلبہ کو جاری کئے گئے ۔ جبکہ پری میٹرک دوسری لسٹ کے تحت 15 کروڑ 53 لاکھ 8 ہزار 283 روپئے 40 ہزار 444 طلبہ میں جاری کئے گئے ۔