حیدرآباد۔/26فبروری، ( سیاست نیوز) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کی جانب سے کسی بھی لمحہ تلنگانہ کی تشکیل سے متعلق اعلامیہ کی اجرائی کے پیش نظر ریاست میں نظم و نسق کی تقسیم کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ چیف سکریٹری ڈاکٹر پی کے موہنتی کی ہدایت کے بعد اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اقلیتی بہبود کے اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور آئندہ 10دن میں اپنے اداروں سے متعلق تمام تفصیلات علحدہ کرنے کی ہدایت دی۔چیف سکریٹری کے اجلاس کے بعد مختلف محکمہ جات کے پرنسپال سکریٹریز نے اپنے اپنے محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ضروری ہدایات جاری کیں۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بھی محکمہ کے تحت موجود مختلف اداروں کا اجلاس طلب کیا۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اندرون دس یوم اپنے اپنے ادارہ میں موجود فائیلوں کی فہرست اور ان کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ تمام فائیلوں کی زیراکس کاپیاں تیار کریں۔ اداروں سے متعلق اثاثہ جات کی فائیلیں علحدہ طور پر تیار کی جائیں اور ان کی بھی زیراکس کاپیاں تیار رکھیں۔
ہر ادارہ ملازمین کی فہرست، ان کے علاقے اور تنخواہ سے متعلق تفصیلات کی فہرست بھی تیار کرے۔ چیف سکریٹری نے ہدایت دی کہ مرکز کی جانب سے متبادل انتظام تک کوئی محکمہ رقمی یا اور کوئی منظوری نہ دے۔ مرکز کی جانب سے ریاست میں متبادل حکومت یا پھر صدرراج کے نفاذ کے اعلان کے بعد ہی نئی منظوریاں دی جاسکتی ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ہر محکمہ کے مجموعی بجٹ میں سے 42% تلنگانہ کیلئے اور 58% سیما آندھرا کیلئے مختص کیا جائے گا۔ عہدیداروں کو اپنے اپنے اداروں میں عارضی اور کنٹراکٹ ملازمین کی تفصیلات، اُن کی تنخواہیں اور اُن کے علاقے سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔حیدرآباد میں موجود قومی سطح کے ادارے یا اثاثہ جات دونوں ریاستوں کی مشترکہ ملکیت ہوں گے۔ اقلیتی بہبود کے تحت موجود دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی تقسیم کے بغیر دونوں ریاستوں کا اثاثہ رہے گا۔ اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ وقف بورڈ اور حج کمیٹی کو 10برسوں تک دونوں ریاستوں کیلئے مشترکہ ادارے کے طور پر برقرار رکھا جائے
کیونکہ ان دونوں اداروں کی خدمات کو فوری طور پر علحدہ کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے محکمہ جات کے تحت موجود چھوٹے اداروں کو ضم کردیں اور ہر محکمہ کو مختصر کرنے کی کوشش کی جائے۔ اقلیتی بہبود کے تحت موجود کرسچین فینانس کارپوریشن کو اقلیتی فینانس کارپوریشن میں ضم کردیا جائے گا۔ محکمہ جات سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے محکمہ سے متعلق مسائل اور اب تک جاری کردہ جی اوز کی تفصیلات بھی مرتب کریں۔ اس کے علاوہ محکمہ سے متعلق عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی بھی فہرست تیار کی جائے۔ سید عمر جلیل کے پاس منعقدہ اجلاس میں کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن و ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ و ایکزیکیٹو آفیسر حج کمیٹی ایم اے حمید اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ اور سیما آندھرا سے متعلق فائیلوں کو علحدہ کیا جائے گا۔ تمام تفصیلات چیف سکریٹری کو داخل کی جائیں گی اور مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت کے مطابق انتخابات کے بعد اداروں کی تقسیم عمل میں آئے گی۔