چیف منسٹر کو تفصیلات پیش، کئی اہم اسکیمات کیلئے اجرائی ہنوز باقی
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے 496 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو محکمہ کی جانب سے بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں تفصیلات پیش کی گئیں۔ مالیاتی سال 2018-19 ء میں اقلیتی بہبود کیلئے 1973 کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ مختلف اداروں کیلئے 403 کروڑ کی اجرائی سے متعلق احکامات جاری کئے گئے جبکہ 496 کروڑ 37 لاکھ کی اجرائی عمل میں آئی ۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کیلئے 735 کروڑ مختص کئے گئے لیکن اجرائی کا آغاز نہیں ہوا۔ فیس باز ادائیگی کیلئے 248 کروڑ جاری کئے گئے جبکہ اسکالرشپ کیلئے 100 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی ۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے 100 کروڑ میں 25 کروڑ جاری کئے گئے ۔ حکومت ہند کی پری میٹرک اسکالرشپ کیلئے 30 کروڑ روپئے مختص کئے گئے اور یہ رقم جاری کردی گئی۔ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کیلئے 160 کروڑ مختص کئے گئے لیکن جاریہ سال رقم کی اجرائی کا آغاز نہیں ہوا۔ شادی مبارک کے 200 کروڑ کے منجملہ 93 کروڑ 37 لاکھ جاری کئے گئے ۔ وقف بورڈ کیلئے 80 کروڑ ، ایم ایس ڈی پی اسکیم کے تحت 90 کروڑ ، اردو اکیڈیمی 40 کروڑ ، مکہ مسجد 7 کروڑ ، ٹریننگ اینڈ ایمپلائمنٹ 15 کروڑ ، ویلفیر اسکیمات 12 کروڑ ، اسٹڈی سرکل 8 کروڑ ، سی ای ڈی ایم 4 کروڑ ، حج کمیٹی 4 کروڑ ، دائرۃ المعارف 5 کروڑ ، اردو اکیڈیمی تنخواہیں 2 کروڑ ، سروے کمشنر وقف 1 کروڑ ، ٹی پرائم ٹی زیڈ 25 کروڑ ، سکھ بھون کی تعمیر 7 کروڑ ، کرسچین بھون 29 کروڑ اور مسلمانوںکی سماجی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے دو کروڑ مختص کئے گئے لیکن ان تمام اسکیمات کیلئے ابھی تک ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے محکمہ فینانس کو ہدایت دی کہ ضروری اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی میں تاخیر نہ کریں۔