حیدرآباد ۔ 18۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں داخلوں کے سلسلہ میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا جارہا ہے ۔ تعلیمی سال 2019-20 کیلئے پانچویں تا آٹھویں جماعت میں داخلوں کیلئے مقررہ نشستوں سے کہیں زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری بی شفیع اللہ آئی ایف ایس نے بتایا کہ پانچویں جماعت کیلئے سوسائٹی کے 204 اقامتی اسکولوں میں 14640 نشستیں دستیاب ہیں جس کے لئے 40492 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جبکہ چھٹویں تا آٹھویں جماعتوں میں 4345 نشستیں موجود ہیں جن کے لئے 8783 امیدواروں نے درخواستیں داخل کیں۔ ان جماعتوں میں انٹرنس ٹسٹ کے ذریعہ داخلہ دیا جائے گا ۔ امتحانی مراکز تمام 204 اقامتی اسکولوں پر رہیں گے۔ پانچویں جماعت کیلئے انٹرنس ٹسٹ 20 اپریل کو صبح 11 تا دوپہر ایک بجے رہے گا جبکہ چھٹویں تا آٹھویں جماعتوں میں داخلہ کیلئے انٹرنس ٹسٹ 22 اپریل کو مقرر کیا گیا ہے ۔ ٹسٹ کے اوقات 11 تا 12 بجے دن رہیں گے۔ بی شفیع اللہ نے کہا کہ امتحانی پرچہ انگلش ، تلگو اور اردو میں فراہم کئے جائیں گے اور آبجکٹیو ٹائپ کے 50 اور سوالات کے 50 نشانات رہیں گے۔ پارٹ اے تلگو یا اردو آبجکٹیو 10 نشانات پر مشتمل رہے گا ۔ ہر سوال کا ایک نشان ہوگا جبکہ پارٹ بی میتھمیٹکس آبجکٹیو رہے گا ۔ پارٹ سی ماحولیاتی سائنس آبجکٹیو ، پارٹ ڈی جنرل نالج اور پارٹی ای انگلش آبجکٹیو رہے گا۔ بی شفیع اللہ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے اقامتی اسکولوں کے قیام کا جو فیصلہ کیا ہے اس کی ملک بھر میں ستائش کی جارہی ہے ۔ کئی ریاستوں نے تلنگانہ کے اقامتی اسکولوں کے طرز میں اسکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اسکول سوسائٹی سے تفصیلات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب اقلیتی خاندانوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے مقصد سے اقامتی اسکولس کا جال ریاست بھر میں پھیلایا گیا ہے اور طلبہ کو کارپوریٹ اداروں کی طرز پر تعلیم کے علاوہ بنیادی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات پر توجہ دی گئی ہے ۔ عربی اور اخلاقیات کی تعلیم کیلئے خصوصی اساتذہ کا تقرر کیا گیا ۔ بی شفیع اللہ نے کہا کہ اسکولوں میں رہائش اور طعام کی بہتر سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جس کی وقتاً فوقتاً جانچ کی جاتی ہیں۔ طلبہ کو کتابیں اور ڈریس مفت سربراہ کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کیلئے کھیل کود اور دیگر سائنسی سرگرمیوں کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ سوسائٹی کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ اقامتی اسکول کے طلبہ کو خلائی تحقیق کے ادارہ ناسا کا دورہ کرنے کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کود کے مقابلوں میں اقامتی اسکول کے طلبہ نے بہتر مظاہرہ کیا ہے اور کئی مقابلوں میں انعامات حاصل کئے ہیں۔ بی شفیع اللہ نے کہا کہ طلبہ کو بہتر ماحول فراہم کرتے ہوئے حصول تعلیم کی طرف رغبت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 204 اقامتی اسکولوں میں 97 گرلز اور 107 بوائز اسکولس ہیں۔ ریاست کے کئی دیگر مقامات سے اقامتی اسکولوں کے قیام کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اقلیتوں کو اسکول کے بعد جونیئر اور ڈگری کالج کی سطح پر ا قامتی ادارے قائم کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔ اسی سلسلہ کے تحت اقامتی اسکول سوسائٹی 12 اقامتی جونیئر کالجس کا انتظام کامیابی کے ساتھ چلا رہی ہیں۔ ان میں 9 بوائز اور 2 گرلز اقامتی جونیئر کالجس ہیں۔ جونیئر کالجس میں 960 نشستوں کیلئے 7356 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ انٹرنس ٹسٹ کے ذریعہ جونیئر کالجس میں داخلوں کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے ۔ شفیع اللہ نے کہا کہ اقامتی اسکولوں کی بہتر کارکردگی کیلئے چیف منسٹر کی خصوصی دلچسپی کا اہم دخل ہے۔ اس کے علاوہ سوسائٹی کے صدرنشین اے کے خاں ہر موڑ پر رہنمائی کر رہے ہیں ۔