سکریٹری اقلیتی بہبود کو منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کا مکتوب
حیدرآباد ۔ /19فبروری ، ( سیاست نیوز (تلنگانہ قانون ساز کونسل کے گریجویٹ نشستوں کیلئے مجوزہ انتخابات کے پیش نظر محکمہ اقلیتی بہبود نے جاریہ اسکیمات پر عمل آوری سے متعلق الیکشن کمیشن سے وضاحت کی خواہش کی ہے۔ واضح رہے کہ کونسل کی نشستوں کیلئے اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے جس کے تحت حکومت کسی بھی نئی اسکیم کا آغاز نہیں کرسکتی۔ ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے سبب تلنگانہ حکومت نے بھی آبپاشی سے متعلق اپنی نئی اسکیم کے آغاز کو ملتوی کردیا تھا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی اہم اسکیمات میں بینکوں سے مربوط قرض پر سبسیڈی کی فراہمی اسکیم شامل ہے جس پر اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے عمل آوری کی جارہی ہے۔ کارپوریشن نے گزشتہ مالیاتی سال کی منظورہ درخواستوں میں سے 80 فیصد امیدواروں کی سبسیڈی کی رقم جاری کردی ہے جبکہ مابقی درخواست گذاروں کی سبسیڈی کی رقم جاری کرنے کیلئے الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی گئی۔ سابق میں الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب نئی اسکیمات پر عمل آوری روکنے کی ہدایت دی تھی تاہم محکمہ کی جانب سے وضاحت مانگنے پر جاریہ اسکیمات پر عمل آوری کی اجازت دے دی گئی تھی۔ دوبارہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور نے اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سبسیڈی کی فراہمی کی اسکیم پر عمل آوری کے بارے میں الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کرنے کی خواہش کی۔ محکمہ کی جانب سے چیف الیکٹورل آفیسر اور الیکشن کمیشن سے وضاحت مانگی جائے گی اور کمیشن کا جواب ملنے کے بعد اسکیم پر عمل آوری کا سلسلہ جاری رہے گا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات میں سبسیڈی سے متعلق اسکیم اہمیت کی حامل ہے۔ کارپوریشن نے گزشتہ سال کی منظورہ تمام درخواستوں کیلئے سبسیڈی کی اجرائی کا تیزی سے آغاز کیا تاہم ریاست کی تقسیم کے بعد بجٹ منجمد ہونے کے سبب سبسیڈی کی اجرائی میں کسی قدر تاخیر ہوئی۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں اجازت حاصل کرتے ہوئے دوبارہ سبسیڈی کی اجرائی کا آغاز ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کارپوریشن کی جانب سے امیدواروں کے بینک اکاؤنٹ میں سبسیڈی کی رقم منتقل کرنے کے باوجود متعلقہ بینک قرض جاری کرنے میں تساہل سے کام لے رہے ہیں۔ کئی امیدواروں نے اس سلسلہ میں کارپوریشن کے دفتر پہنچ کر بینک عہدیداروں کے رویہ کی شکایت کی۔ کارپوریشن نے اس سلسلہ میں اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی اور بینکوں کے اعلیٰ حکام سے نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے۔