قرضہ جات، اسکالرشپس کی ادائیگی باقی، عہدیداروں کی قلت، اقلیتی اداروں میں کارکردگی ٹھپ
حیدرآباد۔/22نومبر، ( سیاست نیوز) ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اقلیتی اداروں کی تقسیم میں تاخیر کے سبب مختلف اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔2جون کو نئی ریاست تلنگانہ کا وجود عمل میں آیا لیکن ابھی تک اقلیتی اداروں کی تقسیم کا عمل مکمل نہیں کیا گیا جس کے باعث گزشتہ 5ماہ سے دونوں ریاستوں میں اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری عملاً ٹھپ ہوچکی ہے۔ تقسیم کے سبب اقلیتی بہبود کے بجٹ کو منجمد کردیا گیا تھا جس کے باعث اقلیتی ادارے مختلف اسکیمات کے سلسلہ میں منظورہ رقم کی اجرائی سے قاصر ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی سبسیڈی سے متعلق اسکیم پر دونوں ریاستوں میں عمل آوری بجٹ کے استعمال کی اجازت نہ ملنے کے سبب روک دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسکالر شپ اور فیس بازادائیگی اسکیمات پر بھی اثر پڑا ہے۔ حکومت گزشتہ دو برسوں کی اسکالر شپ اور فیس بازادائیگی کے سلسلہ میں 100کروڑ روپئے جاری کرنا ابھی باقی ہے۔ 175کروڑ بقایا جات میں سے 75کروڑ روپئے حکومت نے جاری کئے۔ تعلیمی سال 2012-13 اور 2013-14 کے اسکالر شپ اور فیس بازادائیگی کی رقومات جاری کئے جانے کے بعد جاریہ تعلیمی سال کیلئے درخواستوں کی وصولی کا آغاز ہوگا۔ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں سے جب اس سلسلہ میں استفسار کیا گیا تو دونوں ریاستوں کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اقلیتی اداروں کی عدم تقسیم کے سبب یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ کئی ہزار امیدوار ایسے ہیں جنہیں مختلف اسکیمات کے تحت رقم منظور کردی گئی لیکن اجرائی ابھی باقی ہے کیونکہ حکومت نے بجٹ کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ اقلیتی اداروں میں اردو اکیڈیمی، اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی، وقف بورڈ، سروے کمشنر وقف، وقف ٹریبونل، کرسچین فینانس کارپوریشن اور سی ای ڈی ایم کی عاجلانہ تقسیم کیلئے عہدیداروں نے تجاویز کے ساتھ فائیل حکومت کے پاس روانہ کردی لیکن ابھی تک تقسیم کو منظوری حاصل نہ ہوسکی۔ حکومت نے صرف حج کمیٹی کا نام تبدیل کیا ہے تاہم ملازمین اور اثاثہ جات کی تقسیم ابھی باقی ہے۔ اداروں کی تقسیم میں تاخیر کے سبب دونوں ریاستوں کو ملازمین اور عہدیداروں کے حصول کے سلسلہ میں دوڑ دھوپ کرنی پڑ رہی ہے۔ اقلیتی اداروں میں ملازمین کی تعداد پہلے ہی سے کم ہے اس پر تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں میں ملازمین کی قلت پیدا ہوگی۔ حکومت نے ابھی تک صرف محکمہ اقلیتی بہبود اور کمشنریٹ کی تقسیم کا عمل مکمل کرلیا ہے تاہم دونوں ریاستوں کے محکمہ اور کمشنریٹ میں ملازمین کی تعداد انتہائی کم ہے۔ تلنگانہ میں ڈپٹی سکریٹری رینک کا ایک بھی عہدیدار نہیں۔ آندھرا پردیش کے کمشنریٹ اور تلنگانہ کے ڈائرکٹوریٹ میں ملازمین کی قلت کے باعث اسکیمات پر عمل آوری میں دشواری کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی اداروں کی تقسیم کا عمل مکمل ہونے کیلئے مزید ایک ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ دائرۃ المعارف دونوں ریاستوں کے مشترکہ اثاثہ کے طور پر برقرار رہے گا۔