اقلیتی اداروں کی تقسیم قطعی مرحلہ میں ، اداروں کی تقسیم پر حکومت کو رپورٹ

حیدرآباد ۔12 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) آندھراپردیش کی تقسیم کے پیش نظر مختلف سرکاری محکمہ جات کی تقسیم کا عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ اقلیتی اداروں کی تقسیم آخری مراحل میں ہے اور اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اقلیتی اداروں کے عہدیداروں، ملازمین ، اثاثہ جات اور دیگر امور سے متعلق حکومت کو رپورٹ پیش کردی ہے۔ تمام اداروں کے سربراہ 15 مئی تک سرکاری اکاؤنٹ کا استعمال کرپائیں گے، اس کے بعد سرکاری خزانہ سے کوئی بھی محکمہ اسکیمات یا دیگر اخراجات کے سلسلہ میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کر پائے گا۔ 15 مئی کو تمام اداروں کے اکاؤنٹس عملاً بند کردیئے جائیں اور صرف تنخواہوں کیلئے رقم منہا کی جاسکتی ہے۔ سرکاری ملازمین کو جاریہ ماہ کی 24 تاریخ کو تنخواہیں جاری کردی جائیں گی اور یہ مشترکہ ریاست میں ملازمین کی آخری تنخواہ ہوگی۔ اس کے بعد ملازمین اپنی اپنی متعلقہ ریاست میں تنخواہیں حاصل کرسکیں گے۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن اور چیف سکریٹری پی کے موہنتی نے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹس کو اس سلسلہ میں واضح ہدایات جاری کردی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی اداروں کے سربراہ بھی مابقی تین دن میں ضروری اخراجات سے متعلق رقم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ 15 مئی کے بعد وہ اس کے مجاز نہیں رہیں گے۔ اقلیتی اداروں، اقلیتی فینانس کارپوریشن ، حج کمیٹی ، اردو اکیڈیمی ، سی اے ڈی ایم، وقف بورڈ اور کمشنریٹ کے ملازمین کی تقسیم کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ تاہم ملازمین کا دونوں ریاستوں میں الاٹمنٹ بعد میں کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ محکمہ جات سے ملازمین کی تفصیلات حاصل ہونے کے بعد تقسیم سے متعلق کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ حکومت نے ہر ادارے کے ملازمین کے بارے میں مکمل تفصیلات حاصل کی ہیں جن میں جائے پیدائش، ابتدائی تعلیم کا اسکول اور رہائش سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ کسی ملازم کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم تلنگانہ یا سیما آندھرا میں ہو تو اسی بنیاد پر اس اس کا الاٹمنٹ کیا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کی تفصیلات کی فراہمی میں عہدیداروں نے محتاط رویہ اختیار کیا۔ قواعد کے مطابق اگر ایک بھی ملازم اپنی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہے گا تو وہ تنخواہ سے محروم ہوجائے گا۔ حکومت نے سیما آندھرا کے 13 اضلاع کے لئے 58 فیصد اور تلنگانہ کے 10 اضلاع کے لئے 42 فیصد ملازمین کے الاٹمنٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی دوران باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کے نگرانکار سکریٹری رتبہ کے عہدیدار ہوں گے جبکہ سیما آندھرا میں کمشنر اقلیتی بہبود کو محکمہ کی ذمہ داری دی جائے گی اور وہ انچارج سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے ۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر کا عہدہ تلنگانہ میں سکریٹری کے تحت ہوگا جبکہ سیما آندھرا میں کمشنر اقلیتی بہبود، اقلیتی فینانس کارپوریشن کے انچارج مینجنگ ڈائرکٹر ہوں گے ۔ اردو اکیڈیمی کیلئے دونوں ریاستوں میں علحدہ ڈائرکٹرس کے عہدے برقرار رہیں گے۔ اسی دوران اقلیتی اداروں میں فائلوں کی اسکیاننگ کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی میں فائلوں کی اسکیاننگ کا کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ وقف بورڈ اور سی ای ڈی ایم میں یہ کام اختتامی مراحل میں ہے۔ فائلوں کو دو زمرے میں تیار کیا جارہا ہے، ایک دونوں ریاستوں کیلئے مشترکہ فائل اور دوسرے دونوں ریاستوں کی علحدہ فائلیں رہیں گی۔