اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت

حیدرآباد۔ 2؍فروری (سیاست نیوز)۔ خیریت آباد کے سابق رکن اسمبلی آنجہانی پی جناردھن ریڈی کی دختر اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی سرگرم لیڈر وجیا ریڈی نے کہا ہے کہ ایک دور تھا، جب حلقہ اسمبلی خیریت آباد کے غریب عوام سر پر ایک چھت کے لئے کافی پریشان اور فکرمند تھے۔ ان کے والد جناردھن ریڈی نے بحیثیت رکن اسمبلی ان تمام غریب عوام کو جن میں مسلمانوں کی کثیر تعداد بھی شامل تھی، اپنے حلقہ کے مختلف مقامات پر مفت اراضی فراہم کی اور مکانات کی تعمیر کے لئے حکومت سے مدد مہیا کی گئی۔ مسز وجیا ریڈی نے مزید کہا کہ ’’میں نے بھی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر مسٹر جگن موہن ریڈی کی قیادت میں اس مشن کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور عوام کی خدمت کے لئے سرگرم ہوچکی ہوں‘‘۔ مسز وجیا ریڈی نے سابق چیف منسٹر آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور حکمرانی میں اقلیتوں اور عوام کے دیگر طبقات کے لئے کئے جانے والے فلاحی اقدامات کا تفصیلی تذکرہ کیا اور کہا کہ بالخصوص اقلیتوں کو تعلیم و روزگار میں تحفظات کی فراہمی وائی ایس آر حکومت کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ علاوہ ازیں مسلم طلبہ کو اسکالرشپس کی فراہمی، نوجوانوں کو روزگار اور کاروبار کے لئے قرض کی فراہمی کی کئی اسکیمات بھی اُس دور میں شروع کی گئی تھیں۔ مسز وجیا ریڈی نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ مسٹر جگن موہن ریڈی کے دور میں بھی عوام کی فلاح و بہبود کی ایسی ہی پالیسیوں کو جاری رکھا جائے گا۔

مسز وجیا ریڈی نے کہا کہ ’’وائی ایس آر خاندان کی اقلیت دوستی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ مسٹر جگن موہن ریڈی نے عامر بھائی (جناب عامر علی خان) کو حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کے لئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کا انچارج مقرر کیا ہے اور توقع ظاہر کی کہ حلقہ سکندرآباد میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی ہر سطح پر شاندار مظاہرہ کرے گی‘‘۔ حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کے انچارج جناب عامر علی خان نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’’میں اپنے بچپن کے دوست جگن موہن ریڈی کی دعوت اور ان سے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں شامل ہوا ہوں، کیونکہ جگن صاحب کا اکثر یہ کہنا تھا کہ آپ اخبارات میں اپنی تحریروں کے ذریعہ عوامی مسائل تو ضرور اُجاگر کرسکتے ہیں، لیکن انھیں عملی جامہ پہنانے کے لئے سیاسی اثر و رسوخ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھے خاندان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اکثر سیاست سے دُور اختیار کرتے ہیں، جس سے سیاسی جماعتوں میں اچھے لوگوں کی کمی پائی جاتی ہے۔

چنانچہ آپ (جناب عامر علی خان) جیسے نوجوانوں کو سیاسی میدان میں داخلہ لینا چاہئے‘‘۔ جناب عامر علی خان نے جو حلقہ اسمبلی خیریت آباد کے علاقہ مقطعہ مدار صاحب میں آج ہزاروں نوجوانوں کی وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ جلسہ سے خطاب کررہے تھے، کہا کہ روزنامہ ’سیاست‘ کے زیر اہتمام ’طاقتور 100‘ کے زیر عنوان ایک پروگرام جاری ہے جس کا مقصد ریاست کے ہر اسمبلی حلقہ سے ایسے 100 نوجوانوں کو ضروری تربیت دینا ہے جو عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے ’ہر فن مولا‘ ثابت ہوسکیں۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ ہر حلقہ سے منتخب کئے جانے والے 100 نوجوانوں کو سیول، پولیس، عدلیہ اور دیگر شعبوں میں غریب عوام کے مسائل کی مؤثر نمائندگی کے لئے تمام ضروری تربیت فراہم کی جائے گی۔ جناب عامر علی خان نے شہریوں بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ آنے والے حالات اور ان کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ہوش مندی سے کام لیں۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ ’’وہ دور گزر گیا، جب لوگ ہوش کی بجائے جوش سے کام لیا کرتے تھے، لیکن آج زمانہ بدل چکا ہے۔ جہاں حکمت و ہوش مندی کے ذریعہ ہی مسائل کئے جاسکتے ہیں اور مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کو بشمول اقلیتی طبقات اس کے 120 کروڑ عوام کے ساتھ 2050ء کی سمت لے جانا ہے جس کے لئے ہر سطح پر باشعور نوجوانوں کے سرگرم رول کی ضرورت ہوگی۔