ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا اقلیتی بہبود عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس ۔ عہدیداروں کی مختلف تجاویز سے اتفاق
حیدرآباد۔/20جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست میں اقلیتی بہبود سے متعلق جاریہ اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لینے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر ٹی رادھا اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن، اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی اور سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ پرنسپل سکریٹری ٹی رادھا نے ڈپٹی چیف منسٹر کو فینانس کارپوریشن کی جانب سے بینکوں سے مربوط قرض پر مبنی سبسیڈی فراہمی اسکیم پر عمل آوری کی تفصیلات بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی کے مقابلہ میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کا مظاہرہ بہتر رہا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے کم بجٹ کے باوجود اس اسکیم کے تحت تقریباً 47کروڑ روپئے بطور سبسیڈی جاری کئے ہیں جبکہ زائد بجٹ کے باوجود دیگر طبقات کی بھلائی سے متعلق اداروں نے اس نشانہ کی تکمیل نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ سبسیڈی فراہمی اسکیم کیلئے 100کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جبکہ 75کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے 11,717 استفادہ کنندگان میں 46کروڑ 82لاکھ 13ہزار روپئے بطور سبسیڈی جاری کئے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کو بتایا گیا کہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے پاس مزید 11ہزار درخواستیں زیر التواء ہیں جن کی بہت جلد یکسوئی کردی جائے گی۔ پرنسپل سکریٹری نے اقلیتی بہبود سے متعلق دیگر اداروں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اردو اکیڈیمی نے اس کی تمام اسکیمات پر عمل آوری مکمل کرلی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیداروں سے خواہش کی کہ وہ اقلیتوں کی معاشی پسماندگی کے خاتمہ اور انہیں خود روزگار سے مربوط کرنے چھوٹے قرض پر مبنی اسکیمات پیش کریں۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن نے سبسیڈی فراہمی سے متعلق شرائط میں تبدیلی کا مشورہ دیا اور کہا کہ جی او101 کے تحت استفادہ کنندگان کیلئے عمر کی حد 21تا40سال مقرر کی گئی ہے، اگر حکومت اس حد میں رعایت کرے تو مزید غریب خاندانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے 21 تا55سال اسکیم سے استفادہ کی اہلیت کی عمر مقرر کرنے کی تجویز پیش کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیف منسٹر سے اس مسئلہ کو رجوع کرکے منظوری حاصل کریں گے تاکہ زیادہ غریب خاندانوں کو قرض فراہم کیا جاسکے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے آٹو رکشا کی خریدی اور چھوٹے کاروبار کے آغاز کے سلسلہ میں اقلیتی فینانس کارپوریشن سے راست قرض کی اجرائی کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اردو میڈیم مدارس میں مضامین کے اساتذہ کی کمی دور کرنے اردو اکیڈیمی ودیا والینٹرس کی طرز پر مضامین کے اساتذہ فراہم کرنے تیار ہے بشرطیکہ حکومت اس سلسلہ میں فنڈز فراہم کرے۔ دیگر طبقات کے مدارس کو سروا سکھشا ابھیان کی جانب سے ودیا والینٹرس فراہم کئے جاتے ہیں۔ جناب محمود علی نے اس تجویز سے اتفاق کرکے کہا کہ وہ اردو اکیڈیمی کو اس سلسلہ میں فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ ودیا والینٹرس کی فراہمی سے اردو میڈیم سرکاری مدارس کے معیار کو بلند کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اردو کو دوسری سرکاری زبان والے اضلاع کی فہرست میں ضلع کھمم کو شامل کرنے سے اتفاق کیا اور کہا کہ حکومت جلد کارروائی کرے گی۔ متحدہ آندھرا میں 15اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا جن میں تلنگانہ کے 9اضلاع شامل ہیں۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد ضلع کھمم اس فہرست میں شامل نہیں۔ ٹی آر ایس نے ساری ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا وعدہ کیا ہے، اس اعتبار سے کھمم کو اس فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سائن بورڈز پر اردو کی شمولیت کے سلسلہ میں عہدیداروں کو ہدایت جاری کرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حج ہاوز میں سہولتوں کا جائزہ لینے اندرون ایک ہفتہ دورہ کریں گے۔ ستمبر سے حج سیزن کا آغاز ہوگا اور حکومت چاہتی ہے کہ آغاز سے قبل حج ہاوز میں تمام سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے گزشتہ حج سیزن کے موقع پر حج کیمپ کے شاندار انتظامات پر اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور کی ستائش کی۔