حیدرآباد ۔18 ۔ جون ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے فلاحی اسکیمات مسٹر رام لکشمن ریٹائرڈ آئی اے ایس نے آج محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے وقف بورڈ اقلیتی فینانس کارپوریشن اردو اکیڈیمی اور دیگر اداروں کے سربراہوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے مختلف اسکیمات پر عمل آوری اور بجٹ کے خرچ کے بارے میں تفصیلات حاصل کی۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راو نے فلاحی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے رام لکشمن کو حکومت کا مشیر مقرر کیا ہے جو سابق میں پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بنانے عہدیداروں کو ہدایت دی ۔
انہوں نے اقلیتوں کی معاشی پسماندگی دورکرنے اور انہیں چھوٹے کاروبار سے وابستہ کرنے کیلئے قرض کی فراہمی سے متعلق اسکیمات کی تیاری کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن ، مختلف بینکوں کے اشتراک سے غریب اقلیتی خاندانوں کو قرضہ جات فراہم کرے گا، اس سلسلہ میں اسکیمات تیار کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے اردو اکیڈیمی کو مشورہ دیا کہ وہ اردو زبان کی ترقی و ترویج کے علاوہ حیدرآبادی تہذیب کو فروغ دینے کیلئے حکومت کو تجاویز پیش کرے۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے مسئلہ پر رام لکشمن نے کہا کہ حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے اور جن خانگی اداروں کو اوقافی اراضیات حوالے کی گئیں ان کی بازیابی کی کوشش کی جائے گی ۔ کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال آئی پی ایس نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی ترقی کے بارے میں تجاویز پر مشتمل رپورٹ حوالے کی۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی طرز پر تلنگانہ میں وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کی تجویز پیش کی اور کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کو ترقی دے سکتی ہے۔ مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور نے فینانس کارپوریشن کی جانب سے اسکالرشپ اور سبسیڈی سے مربوط قرضوں کی فراہمی سے متعلق اسکیمات سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ بینکرس کا تعاون حاصل کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ غریب اقلیتوں کو قرض کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے اردو اکیڈیمی کی اسکیمات سے واقف کرایا۔ اس موقع پر جنرل مینجر اقلیتی فینانس کارپوریشن میر ولایت حسین اور دوسرے موجود تھے۔