اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے نئی اسکیمات کا اعلان متوقع

حکومت تلنگانہ اسکیمات کی منظوری، قرض، اقامتی مدارس اور دیگر شامل
حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کے بجٹ میں اقلیتوں کی تعلیمی ترقی سے متعلق بعض نئی اسکیمات کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اس سلسلہ میں حکومت تلنگانہ کو جو نئی اسکیمات تجویز کی تھیں ان میں بعض کو منظوری دے دی گئی۔ اقلیتی طلبہ کیلئے بیرون ملک تعلیم کے سلسلہ میں 10لاکھ روپئے بطور قرض فراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر فینانس نے اس تجویز کو منظوری دے دی اور تلنگانہ کے بجٹ میں اس اسکیم کو شامل کیا جائے گا۔ ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بیرون ملک تعلیم کے سلسلہ میں 10لاکھ روپئے قرض کی اسکیم موجود ہے۔ اس اسکیم کو اقلیتی طلبہ کیلئے توسیع دینے سید عمر جلیل کی مساعی کامیاب ہوگئی۔ بجٹ 2015-16 میں اسے علحدہ اسکیم کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے اور اس کیلئے علحدہ بجٹ بھی مختص کیا جائے گا۔ سید عمر جلیل نے اقلیتی طلباء کیلئے ہر ضلع میں اقامتی مدارس اور ہاسٹلس کے قیام کی بھی تجویز پیش کی جسے حکومت نے منظوری دے دی۔ محکمہ اقلیتی بہبود سے اقلیتی طلبہ کو سیول سرویسس اور دیگر مسابقتی امتحانات میں ٹریننگ کیلئے حیدرآباد میں خصوصی اسٹڈی سرکل کے قیام کو بھی حکومت نے منظوری دے دی ہے۔ اس اسٹڈی سرکل میں ماہر اساتذہ کی نگرانی میں نہ صرف سیول سرویسس امتحانات بلکہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے گروپ IتاVْْIامتحانات کیلئے بھی ٹریننگ کا منصوبہ ہے۔ پولیس، نیم فوجی دستوں، فوج، بحریہ، فضائیہ اور دیگر سرویسس میں تقررات کے سلسلہ میں بھی اس اسٹڈی سنٹر کے ذریعہ ٹریننگ کی تجویز ہے۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ سیول سرویسس اور دیگر مسابقتی امتحانات کی ٹریننگ کے سلسلہ میں بجٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کا بجٹ جاریہ سال کے بجٹ سے زیادہ رہے گا۔ وہ اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ جاریہ مالیاتی سال کے اختتام سے قبل حکومت بیرون ملک کے تعلیم خواہاں طلبہ کو قرض کی فراہمی اسکیم کیلئے بجٹ جاری کرے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ضلع میں 2اقامتی اسکولس کے قیام کی تجویز ہے جن میں ایک لڑکیوں اور ایک لڑکوں کیلئے ہوگا۔ حیدرآباد میں 6اور اضلاع میں 18اقامتی اسکولس قائم کئے جائیں گے۔ اقلیتی طلبہ کیلئے 25 ہاسٹلس کے قیام کی تجویز ہے۔ ہر ضلع میں لڑکے اور لڑکیوں کیلئے علحدہ ہاسٹلس قائم جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں بالخصوص مسلم طلبہ کے سیول سرویسس میں انتخاب کو یقینی بنانے کیلئے انتہائی معیاری کوچنگ اداروں میں ٹریننگ کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق فی الوقت اقلیتی طلبہ کو سیول سرویسس کی کوچنگ سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ زائد رقم خرچ کرتے ہوئے انتہائی معیاری ادارہ میں کوچنگ دلائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ سیول سرویسس کوچنگ کیلئے حکومت نے 75کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ اقلیتی طلبہ کو بہتر تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے 2کروڑ 80لاکھ روپئے بجٹ میں مختص کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی فراہمی، اسکالر شپ اور فیس باز ادائیگی جیسی اسکیمات کیلئے آئندہ سال بجٹ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ آئندہ سال بجٹ میں حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے اسٹاف کی تنخواہوں کیلئے 20کروڑ روپئے کی تجویز سے اتفاق کرلیا ہے۔ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی کمی کو دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل اسٹاف کے تقرر کیلئے بہت جلد ریاستی حکومت سے منظوری حاصل کی جائے گی اور پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔ تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کا منظورہ اسٹاف کا کوٹہ 88 ہے جن میںتقریباً 50فیصد تعداد موجود ہے وہ سکریٹریٹ کے علاوہ اضلاع اور اقلیتی بہبود کے تمام اداروں میں درکار اسٹاف کے تقرر کے اقدامات کریں گے۔