حیدرآباد۔ 7 ۔ جنوری (سیاست نیوز) کڑپہ کے رکن اسمبلی ایس بی امجد باشاہ نے آندھراپردیش حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی سے متعلق اسکیمات کا بجٹ فوری جاری کریں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے جناب امجد باشاہ نے آج وزیر اقلیتی بہبود ڈاکٹر پی رگھوناتھ ریڈی سے ملاقات کی اور اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی کیلئے نمائندگی کی۔ انہوں نے حج ہاؤز پہنچ کر اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی کی اسکیمات کا جائزہ لیا ۔ آندھراپردیش میں ان دونوں اداروں کی کارکردگی اور اسکیمات پر عمل آوری کا موقف جاننے کے بعد جناب امجد باشاہ نے الزام عائد کیا کہ آندھراپردیش کی چندرا بابو نائیڈو حکومت اقلیتی بہبود کو یکسر نظر انداز کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں آندھراپردیش کے اقلیتوں کی جانب سے وائی ایس آر کانگریس پار ٹی کی تائید سے برہم چندرا بابو نائیڈو اقلیتی بہبود کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جاریہ سال بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے جو رقومات مختص کی تھی ، انہیں جاری نہیں کیا گیا جس کے باعث آندھراپردیش میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ ہوچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی قرض سے مربوط سبسیڈی اسکیم کے منظورہ درخواست گزاروں کو رقم جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جبکہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے پاس منظورہ درخواست گزاروں کو سبسیڈی جاری کرنے کیلئے بجٹ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کی رقومات جاری نہیں کی گئی جس کے باعث ہزاروں طلبہ پریشان ہیں
اور کالجس کی جانب سے فیس کی ادائیگی کیلئے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ جناب امجد باشاہ نے کہا کہ جاریہ سال آندھراپردیش میں اقلیتی بہبود سے متعلق کسی بھی اہم اسکیم پر عمل آوری ممکن نہیں کیونکہ مالیاتی سال کے اختتام کیلئے صرف تین ماہ باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت نے اردو اکیڈیمی کیلئے ابھی تک منصوبہ جاتی مصارف سے رقم جاری نہیں کی جس کے باعث آندھراپردیش میں فروغ اردو سے متعلق اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ جناب امجد باشاہ نے کہا کہ آندھراپردیش میں ضلع کڑپہ اردو کی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے لیکن بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب اسکیمات پر عمل آوری ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے غریب مسلمانوں کیلئے دکان ، مکان اسکیم کا اعلان کیا لیکن ابھی تک اس اسکیم کے لئے رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا اور رائلسیما کے 95 فیصد مسلمان وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ساتھ ہیں لہذا بی جے پی کی تائید کرنے والی تلگو دیشم حکومت اقلیتی بہبود کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اقلیتی بہبود کیلئے جو اقدامات کئے تھے، انہیں سیاسی رنگ دے کر تلگو دیشم حکومت ختم کرنا چاہتی ہے۔ اسکالرشپ ، سبسیڈی اور قرض کی اجرائی کے سلسلہ میں منظورہ درخواستوں کو تبدیل کرتے ہوئے اس میں تلگو دیشم کے حامیوں کو شامل کرنے کی سازش ہے۔