اقلیتوں کی ترقی کیلئے بے مثال اقدامات کئے جائینگے

حیدرآباد /18 مارچ (سیاست نیوز) ریاستی وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں کی ترقی کے لئے اتنے بڑے پیمانے پر اقدامات کرے گی کہ ان کے ذہن سے اقلیت اور عدم تحفظ کا احساس ختم ہو جائے گا۔ آج کونسل میں بجٹ مباحث کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے معاملے میں عہد کی پابند ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقلیتوں کے تئیں حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ بجٹ 2015-16ء میں 1105 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں گرین چینل کے تحت فنڈس جاری کئے جائیں گے، ایس سی۔ ایس ٹی طبقات کے طرز پر اقلیتوں کے لئے ریزیڈنشل اسکولس قائم کئے جائیں گے، اردو میڈیم اسکولس میں پسماندہ طبقات کے لئے مختص جائدادوں پر تقررات کے لئے روسٹر سسٹم سے استفادہ کیا جائے گا، محکمہ اقلیتی بہبود اور دیگر محکمہ جات میں اقلیتوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود میں تقریباً 20 سال خدمات انجام دینے والے ملازمین ہیں، تاہم ان کی خدمات کو مستقل نہیں بنایا گیا۔ وہ خود ملازمین کے احتجاج میں شریک ہوئے تھے اور ان کی خدمات کو مستقل بنانے حکومت سے مطالبہ کیا تھا۔ ہم ان ایمپلائز کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں، لہذا ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور اس سلسلے میں چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے کل اسمبلی میں اعلان بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد کی ترقی اور سیکورٹی پر حکومت کی خصوصی توجہ ہے،

پولیس کے لئے 300 کروڑ روپئے کے مصارف سے جدید سہولتوں سے آراستہ گاڑیاں خریدی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس اسٹیشن کے مصارف کے لئے دیہی علاقوں کے پولیس اسٹیشن کو 25 ہزار روپئے، ضلع سطح کے پولیس اسٹیشن کو 50 ہزار اور حیدرآباد کے ہر پولیس اسٹیشن کو 75 ہزار روپئے ادا کئے جا رہے ہیں، جب کہ چیف منسٹر نے وزراء اور ٹی آر ایس کے منتخب عوامی نمائندوں کو حاکمانہ طرز کو ترک کرکے خادموں کی طرح خدمات انجام دینے کا مشورہ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برقی مسئلہ پر اپوزیشن جماعتوں کو شک ہو سکتا ہے، مگر حکومت پوری طرح مطمئن ہے، کیونکہ ریاستی حکومت کے مصارف کے بغیر بہت جلد 17 ہزار میگاواٹ برقی قابل استعمال ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کو علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کا یقین تھا، جب کہ اپوزیشن جماعتیں مشکوک تھیں۔ انھوں نے کہا کہ 2018ء تک ہم تلنگانہ کو فاضل برقی رکھنے والی ریاست میں تبدیل کردیں گے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس عوام پر ٹیکس عائد کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ غیر مجاز اراضیات اور مکانات کو باقاعدہ بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے جو سہولت فراہم کی گئی ہے، اس سلسلے میں ہزاروں درخواستیں وصول ہوئی ہیں اور اب تک حکومت کو ایک ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر کے سلسلے میں برسر اقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کے اسمبلی حلقہ جات میں امتیاز نہیں برتا جا رہا ہے اور ریاست کو یونٹ بناکر تمام حلقوں میں سڑکوں کی تعمیر کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو مستقل بنانے کے لئے قانونی رائے حاصل کرکے قواعد تیار کئے جا رہے ہیں۔ آؤٹ سورسنگ کے معاملے میں قانونی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔