اقلیتوں کی بھلائی کے ٹی آر ایس حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت

اقلیتی اداروں کو ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا، تمام اہم اسکیمات ٹھپ
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے لیکن بجٹ کی اجرائی کے سلسلے میں حکومت کا رویہ مایوس کن ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے محکمہ فینانس کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام فلاحی اسکیمات کے بجٹ کی اجرائی کو روک دیں تاکہ رعیتو بندھو اسکیم اور 15 اگست سے شروع ہونے والی کسانوں کی انشورنس اسکیم کے لئے بجٹ دستیاب رہے۔ فلاحی اسکیمات کے بجٹ کو روک کر کسانوں کی اسکیمات پر خرچ کرنے کا مقصد آئندہ انتخابات میں کسانوں کی تائید حاصل کرنا ہے۔ مالیاتی سال 2018-19 ء میں حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 2000 کروڑ کا بجٹ مختص کیا لیکن کسی بھی اقلیتی ادارہ کو پہلے سہ ماہی کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اقلیتی فینانس کارپوریشن ، وقف بورڈ ، اردو اکیڈیمی ، سی ای ڈی ایم ، حج کمیٹی ، دائرۃ المعارف ، سروے کمشنر وقف ، کرسچن فینانس کارپوریشن اور دیگر اداروں کو مالیاتی سال کے آغاز چار ماہ گزرنے کے باوجود ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا ۔ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کو چھوڑ کر کسی بھی ادارہ کو بجٹ کی عدم اجرائی سے اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اقامتی اسکول سوسائٹی کے لئے پہلے سہ ماہی کا بجٹ جاری کردیا گیا ۔ اس کے علاوہ اسکالرشپ ، فیس باز ادائیگی اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کیلئے معمولی اجرائی عمل میں آئی ہے۔ مذکورہ اسکیمات کے گزشتہ سال کے بقایہ جات ابھی تک ادا نہیں کئے گئے ۔ اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کے سلسلہ میں گزشتہ دو برسوں سے طلبہ اقلیتی بہبود کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کیلئے منتخب طلبہ کو دوسری قسط کی اجرائی باقی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن جس کے تحت بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم اور ٹریننگ ایمپلائیمنٹ اسکیم پر عمل آوری کی جاتی ہے۔ دونوں اسکیمات گزشتہ دو برسوں سے بند کردی گئیں۔ عہدیداروں کا کہناہے کہ جب تک بجٹ جاری نہیں کیا جاتا ، اس وقت تک اسکیمات کا آغاز ممکن نہیں ہے۔ اقلیتی امیدواروں کیلئے اون یوورس کیاب اسکیم کے تحت 412 درخواستیں منظور کرلی گئیں لیکن بجٹ کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں امیدواروں کو ابھی تک گاڑیاں حوالے نہیں کی گئیں۔ اردو اکیڈیمی کی اسکیمات پر عمل آوری کے بجائے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی حد تک بجٹ موجود ہے۔ حج کیمپ کا 30 جولائی سے آغاز ہوگا لیکن ابھی تک جاریہ مالیاتی سال میں ایک روپیہ بھی حج کمیٹی کو جاری نہیں کیا گیا۔ موجودہ صورتحال سے اقلیتی بہبود کے عہدیدار مایوس ہیں اور وہ بجٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں محکمہ فینانس کے عہدیداروں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ محکمہ فینانس کے عہدیدار دبے الفاظ میں اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ بجٹ جاری کرنے کے موقف میں نہیں۔ اقلیتوں کی بھلائی اور ترقی کے بلند بانگ دعوے کرنے والے حکومت کے وزراء اور قائدین کو بجٹ کے سلسلہ میں توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔