اقلیتوں کیلئے 12 فیصد تحفظات ، حکومت عہد کی پابند

عنقریب کمیشن کا قیام اور کل جماعتی اجلاس کی طلبی ، چیف منسٹر کے سی آر کا اعلان

حیدرآباد۔/13جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ پر قائم ہے اور اس سلسلہ میں اندرون تین ماہ کمیشن کا قیام عمل میں آئے گا۔ تلنگانہ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر اور مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ 12فیصد تحفظات پر عمل آوری میں کوئی قانونی اور دستوری رکاوٹ پیش نہ آئے۔ انہوں نے بتایا کہ برسر خدمت جج یا ریٹائرڈ کی زیر قیادت ایک کمیشن جلد قائم کرتے ہوئے اس کی سفارشات حاصل کی جائیں گی اور اسی بنیاد پر تحفظات پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ اندرون تین ماہ یہ کام مکمل کرلیا جائے گا اور اس سلسلہ میں وہ بہت جلد کُل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے اپوزیشن کی رائے حاصل کریں گے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ بعض گوشوں کی جانب سے تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں مختلف شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے حالانکہ تحفظات پر عمل آوری صدفیصد ممکن ہے۔ انہوں نے ٹاملناڈو کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہاں 69فیصد تحفظات پر عمل آوری جاری ہے جبکہ سپریم کورٹ نے تحفظات کی مجموعی حد 50فیصد سے زائد نہ کرنے کی سفارش کی۔ اس کے علاوہ کرناٹک میں بھی تحفظات 50فیصد سے زائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتیں جملہ آبادی کا 85فیصد ہیں جبکہ اعلیٰ طبقات صرف 15فیصد ہیں۔ اس طرح تلنگانہ ریاست کمزور طبقات کی ریاست ہے۔ کے سی آر نے بتایا کہ تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں ٹاملناڈو کا قانون حاصل کیا گیا ہے جس کا جائزہ لیتے ہوئے تلنگانہ میں قانون سازی کی جائے گی اور زائد تحفظات کو مرکز کے 9ویں شیڈول میں شامل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس مسئلہ پر نئی دہلی میں قائدین اور عہدیداروں کے علاوہ ماہرین قانون سے مشاورت کرچکے ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ جب ٹاملناڈو میں 50فیصد سے زائد تحفظات پر عمل کیا جاسکتا ہے تو پھر تلنگانہ میں یہ کیوں ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کُل جماعتی وفد نئی دہلی روانہ کیا جائے گا جو کرناٹک و ٹاملناڈو کی طرح تلنگانہ کے تحفظات پر عمل آوری کی ضمانت حاصل کرے گا۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ مسلمانوں اور درج فہرست اقوام کو تحفظات کی فراہمی سے بی سی تحفظات میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مسلمان معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہیں جس کا تذکرہ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے ایوان کو یقین دلایا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور اردو زبان کی ترقی کے سلسلہ میں حکومت نے جو وعدے کئے ہیں ان پر بہرصورت عمل آوری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ہر سال اقلیتی بہبود کیلئے1000کروڑ روپئے مختص کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اردو زبان کو اس کا مستحقہ درجہ دیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے وضاحت کی کہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت کیلئے آئندہ پانچ برسوں میں حکومت نے ایک لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کا جو منصوبہ بنایا ہے اس میں مسلمانوں کی بھی حصہ داری ہوگی۔ اس کے تحت جو بھی فلاحی اسکیمات تیار کی جائیں گی اس میں مسلمان بھی شراکت دار ہوں گے اور اقلیتی نمائندوں سے مشاورت کے بعد اسکیمات کو قطعیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات اور اقلیتوں کی ترقی اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے بہبودی سے متعلق تمام قلمدان انہوں نے اپنے پاس رکھے ہیں۔