آئمہ و موذنین کو مشاہیرہ ‘ سرکاری ملازمین کی سبکدوشی کی عمر 60 سال کی جائیگی ۔ کانگریس انتخابی منشور میں وعدے
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں اقلیتوں کیلئے ایس سی ایس ٹی طبقات کے طرز پر سب پلان تیار کرنے آئمہ مساجد و موذنین کو ماہانہ مشاہرہ ادا کرنے کے علاوہ اردو ٹیچرس کے تقررات کیلئے خصوصی ڈی ایس سی کا اہتمام اقلیتوں کیلئے اسپیشل ہاوزنگ ڈیولپمنٹ کارپوریشن قائم کرنے کا اعلان کیا ۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کے ریٹائرمنٹ کی عمر 58 سال سے بڑھاکر 60 سال کرنے گورنمنٹ ایمپلائز کو علحدہ تلنگانہ تشکیل دینے کی خوشی میں ایک انکریمنٹ دینے تلنگانہ تحریک شہیدوں کے ارکان خاندان میں ایک فرد کو سرکاری ملازمت، مکان اور ایکس گریشیا دینے کا وعدہ کیا ۔ آج گاندھی بھون میں مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کا انتخابی منشور جاری کیا ۔ اے آئی سی سی ایس سیل چیرمین مسٹر کے راجو سکریٹری اے آئی سی سی کوٹیا ، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس مسٹر پی لکشمیا ، معاون صدر مسٹر اتم کمار ریڈی سابق وزیر محمد علی شبیر صدر نشین منشور کمیٹی مسٹر ڈی سریدھر بابو معاون صدر مسٹر ملو بٹی وکرامارک موجود تھے ۔ مسٹر جئے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس کا منشور دیوالی منانے کا ہے جبکہ ٹی آر ایس کا منشور دیوالیہ پن کی نشانی ہے ۔ کانگریس نے منشور کی تیاری میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ بی جے پی بھی اپنے منشور کے معاملے میں غیر سنجیدہ ہے ۔ مسٹر پنالہ لکشمیا نے منشور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے قابل عمل وعدوں کو اپنے منشور میں شامل کیا ہے ۔ دوسری جماعتوں کی طرح عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھانے کی کوشش نہیں کی ہے ۔ ماضی میں جاری کردہ پارٹی کے منشور پر 95 فیصد عمل آوری کی گئی ہے ۔ ایس سی ایس ٹی طبقات کے طرز پر اقلیتوں اور بی سی طبقات کو بھی سب پلان منظور کیا جائے گا ۔ اقلیتی اسکیمات کی عمل آوری کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کو وقت پر بجٹ جاری کرکے اسکے استعمال کیلئے نگرانی رکھی جائے گی ۔ آئمہ مساجد و موذنین کو وقف بورڈ کی جانب سے ماہانہ معاوضہ فراہم کیا جائے گا ۔ اقلیتی نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے خصوصی تربیت فراہم کرکے خود روزگار حاصل کرنے بجٹ مختص کیا جائے گا ۔ اقامتی اسکولس اور جونیر کالجس قائم کئے جائیں گے ۔ غریب بے گھر اور بے زمین اقلیتوں میں مکانات اور اراضیات تقسیم کی جائیگی ۔ حیدرآباد اور اضلاع سطح پر اقلیتی طلبہ کیلئے ہاسٹلس قائم کئے جائیں گے ۔ ٹی پی ایس سی اور یو پی ایس سی امتحانات میں حصہ لینے اقلیتی طلبہ کو کوچنگ فراہم کی جائے گی ۔ بے گھر اقلیتوں کیلئے علحدہ ہاوزنگ کالونیاں قائم کی جائیں گی ۔
اسکے علاوہ اقلیتوں کیلئے خصوصی ہاوزنگ ڈیولپمنٹ کارپوریشن قائم کیا جائیگا ۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 4 فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے حکومت سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی ۔ جو مسلمان تحفظات کے ثمرات سے محروم ہیں انہیں بھی تحفظات فراہم کرنے کا جائزہ لینے ماہرین کمیٹی کی تشکیل دی جائے گی ۔ وقف جائیدادوں کا تحفظ کیا جائے گا اورنئے سنٹرل ایکٹ 2013 پر مکمل عمل آوری کی جائیگی ۔ سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری کی جائے گی ۔ مسلمان غلبہ والے علاقوں میں اردو اسکولس کے قیام پر توجہ دی جائے گی اور اردو ٹیچرس کے تقررات کیلئے خصوصی ڈی ایس سی کا اہتمام کیا جائے گا ۔ ساتھ ہی اردو میڈیم کے کالجس قائم کئے جائیں گے ۔ ہر ضلع میں کرسچن اقلیت کیلئے ایک ہاسٹل قائم کیا جائے گا ۔ تمام ہاسٹلس میں خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس نے کہا کہ پروفیسر جئے شنکر میموریل ٹرسٹ قائم کرکے 100 کروڑ روپئے مختص کئے جائیں گے اور شہر میں 5 ایکڑ اراضی پر یادگار شہیداں تلنگانہ قائم کیا جائیگا ۔ سرکاری ایمپلائز کے ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال بڑھا دی جائے گی ۔ عام ہڑتال میں شرکت کرنے والے ملازمین کو مکمل تنخواہ فراہم کی جائے گی اور ایک انکریمنٹ دیا جائے گا جو آر ٹی سی ایمپلائز کیلئے قابل عمل ہوگا ۔ سلف ہیلپ گروپس میں فی گروپ ایک لاکھ روپئے دیا جائے گا ۔ ایک سال میں ایک لاکھ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی ۔ خود روزگار اسکیم کے ذریعہ ہر ضلع میں ایک ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کی جائیگی ۔ کسانوں کو 10 ہزار روپئے معاوضہ دیا جائیگا ۔ دیہی علاقوں میں بے گھر افراد کو 250 گز اراضی فراہم کی جائے گی ۔ عادل آباد ، کریم نگر ، ورنگل اور کھمم اضلاع پر مشتمل سنگارینی انڈسٹریل گروتھ کاریڈیر قائم کیا جائیگا ۔ حیدرآباد ۔ رنگاریڈی ، محبوب نگر اور میدک اضلاع پر مشتمل فلم ۔
آئی ٹی اور فارما انڈسٹریل گروتھ کاریڈیر قائم کیا جائیگا ۔ میدک ، نظام آباد ، نلگنڈہ اور رنگاریڈی اضلاع زراعت اور ہارٹیکلچر کو ترقی دی جائیگی ۔ تمام اضلاع کے ہیڈکوارٹرس کو حیدرآباد سے مربوط کرنے 6 لائن کی سڑکیں بچھائی جائینگی ۔ تمام منڈلس میں برقی قلت کو دور کرنے سولار پاور پلانٹس قائم کئے جائیں گے ۔ تمام سرکاری مدارس میں ایل کے جی سے انگریزی تعلیمی نظام شروع کیا جائیگا ۔ تمام اسکولس کے طلبہ کو روزانہ ایک گلاس دودھ اور انڈا دیا جائیگا ۔ تمام لوگوں کیلئے ہیلت انشورنس پر عمل کیا جائیگا ۔ سرکاری جائیدادوں پر کنٹراکٹ ملازمین کے تقررات پر امتناع عائد کیا جائے گا ۔ سرکاری ملازمت کیلئے لازمی حد عمر کو 40 سال تک بڑھا دیا جائیگا ۔ معمرین اور معذورین کا وظیفہ 1000 روپئے کردیا جائے گا ۔ ایم ایم ٹی ایس ٹرین کی خدمات کو تمام اضلاع تک توسیع دی جائے گی ۔ اردو کی ترقی کیلئے وسیع اقدامات کئے جائیں گے ۔