حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت ریاست کے اقلیتی طبقات کو مذہب کی بنیاد پر 12 فیصد تحفظات فراہم نہیں کرے گی بلکہ ریاست ٹاملناڈو کے خطوط پر اقلیتی طبقات کو خصوصی پسماندہ طبقات کے زمرہ میں شامل کر کے 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے عہد کی پابند ہے ۔ آج یہاں قانون ساز اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پر ہوئے مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مذکورہ بات کہی اور بتایا کہ حکومت نے ریاست تلنگانہ کے ا قلیتی طبقات کے تعلیمی و معاشی موقف کا جائزہ لینے اور حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کے لئے ایک آئی اے ایس ریٹائرڈ عہدیدار کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس کمیٹی رپورٹ کی روشنی میں اقلیتوں کو علحدہ خصوصی پسماندہ طبقات کے زمرہ میں شامل کرن ے کے اقدامات کرے گی اور پھر اسمبلی میں اس تعلق سے (اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے) قرارداد پیش کرے گی ۔ قرارداد کی منظوری کے بعد قرارداد مرکزی حکومت کو روانہ کر کے اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی خواہش کرے گی ۔ اگر کسی وجہ سے مرکزی حکومت تحفظات فراہم کرنے سے گریز کرنے کی صورتمیں ایک کل جماعتی وفد کے ساتھ مرکزی حکومت پر ریاست تلنگانہ کے اقلیتی طبقات کیلئے 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے نہ صرف اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گی بلکہ زبردست دباؤ ڈالے گی اور اس بات کا مطالبہ کرے گی کہ جس طرح ٹاملناڈو میں اقلیتی طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم ک ئے گئے اس خطوط پر ریاست تلنگانہ کے اقلیتی طبقات کو 14 فیصد تحفظات فراہم کئے جانے چاہئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اقلیتوں کو درپیش مختلف مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومت کی جانب سے جو کوئی بھی تیقنات دیئے گئے بہر صورت ان کو پورا کرنے کی تلنگانہ حکومت پابند ہے۔ ریاست تلنگانہ میں اردو زبان کی ترقی و ترویج کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ اردو زبان درحقیقت حیدرآباد میں پیدا ہوئی اور لکھنو میں پرورش پائی ۔ تاہم حکومت تلنگانہ اردو زبان کو فروغ دیینے اور مکمل انصاف کرنے کیلئے موثر و مثبت ا قدامات کرے گی ۔ ریاست میں سرکاری زبان کمیشن کا تذکرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ سرکاری زبان کمیشن کی تشکیل کیلئے مثبت اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے ریاست کے اردو مدارس میں پائی جانے والی بعض محفوظ جائیدادوں کے مسئلہ پر اور اردو مدارس میں پائی جانے والی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میںلانے کیلئے وزیر تعلیم کے ساتھ اجلاس طلب کروائیں گے اور اس اجلاس میں تفصیلی جائزہ لینے کے بعد موثر اقدامات کئے جائیں گے ۔ چیف منسٹر نے ریاست میں غریب مسلم معمرین افراد کو وظائف کی اجرائی میں کسی قسم کی ناانصافی نہ کرنے کا واضح تیقن دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تلنگانہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے سنجیدہ ذہن رکھتی ہے اور اس سلسلہ میں بالکلیہ طور پر عملی اقدامات کرنے پر اپنی اولین ترجیح دی گی۔