اقلیتوں کو چار فیصد تحفظات پر تلنگانہ و اے پی سے سپریم کورٹ میں وکلاء کی عدم نامزدگی

حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : حکومت تلنگانہ و آندھرا پردیش کی جانب سے تحفظات کے معاملہ میں سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ میں وکیل کی عدم نامزدگی ریاست کے 4 فیصد تحفظات کو جو مسلمانوں کو حاصل ہورہے ہیں نقصان پہنچنے کا باعث بن سکتی ہے ۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیتہ علمائے ہند آندھرا پردیش و تلنگانہ نے آج دونوں ریاستوں کے ضلعی صدور کے اجلاس سے خطاب کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست آندھرا پردیش و تلنگانہ میں سابق ریاست کی بنیاد پر مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات حاصل ہیں ۔ لیکن اب ریاست کی تقسیم کے بعد سپریم کورٹ میں جاری اس مقدمہ میں وکیل کی دونوں ریاستوں کی جانب سے نامزدگی عمل میں نہیں آئی ۔ دونوں ریاستوں میں ہوئے انکاونٹر کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آلیر انکاونٹر معاملہ میں عدالت سے رجوع ہونے کے متعلق قانونی مشاورت کا عمل قریب الختم ہے اور اس مقدمہ میں وکلاء محمود پراچہ اور اے ایم پٹھان کی خدمات کے حصول کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے ۔

علاوہ ازیں شہر کے وکلاء کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی ۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے یس آئی ٹی کی تشکیل کے ذریعہ بھونڈا مذاق کیا ہے ۔ انہوں نے SIT کے ذریعہ تحقیقات کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں سی بی آئی تحقیقات اور آلیر انکاونٹر معاملہ کا مقدمہ حیدرآباد میں چلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں جو حالات پیدا ہورہے ہیں انتہائی افسوسناک ہیں ۔ قبل ازیں منعقدہ اجلاس میں مولانا عبدالمغنی مظاہری ، مولانا عبدالقوی ، مولانا حافظ خلیق احمد صابر کے علاوہ اضلاع سے آئے ذمہ داران نے شرکت کی ۔ صدر جمعیتہ نے بتایا کہ آئندہ ماہ یعنی 16 مئی کو دہلی میں رام لیلا میدان میں جمعیتہ علمائے ہند کا جلسہ عام منعقد ہوگا جس میں ملک کے حالات اور اس سے مقابلہ کے متعلق حکمت عملی تیار کی جائے گی ۔ جمعیتہ العلماء کے اس اجلاس میں ریاست میں جاری سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی گئی ۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں جس وکیل کو ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے

ان سے سپریم کورٹ میں تحفظات کی حمایت کی توقع نہیں کی جاسکتی چونکہ موصوف نے ہائی کورٹ میں تحفظات کی مخالفت کی تھی ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام میں اعتماد برقرار رکھنے کے اقدامات کرے ۔ انہوں نے مسٹر سوامی گوڑ کی جانب سے ہندو طبقہ کی آبادی میں اضافہ کے بیان پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم کسی پر اعتراض نہیں کرتے تو انہیں کیا حق پہنچتا ہے ہم پر اعتراض کرنے کا ؟ صدر جمعیت نے یس آئی ٹی کی تشکیل کے لیے جاری کردہ جی او میں مہلوکین کو ’ دہشت گرد ‘ قرار دئے جانے پر بھی حکومت کی سخت مذمت کی ۔ انہوں نے مہاراشٹرا میں بڑے گوشت پر پابندی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ۔ اس پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ جمعیتہ علماء ہند کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے اور جمعیتہ سیکولر جماعتوں کی حمایت کرتی آئی ہے ۔ انہوں نے قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات کی جانب سے منعقد کی گئی عوامی سماعت میں حکومت کی جانب سے کوئی نمائندگی نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت جمہوری انداز میں جدوجہد کرتے ہوئے حصول انصاف کی لڑائی جاری رکھے گی ۔۔