2 سال سے ایک روپیہ بھی جاری نہیں، خلیج سے آنے والے این آر آئیز توجہ کے منتظر
حیدرآباد۔/21 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتوں کیلئے گزشتہ 4 برسوں میں حکومت کی جانب سے بجٹ میں اضافہ اور نئی اسکیمات کے آغاز کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ دعوؤں کی حقیقت کا پتہ چلائیں تو اقلیتوں کو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اقلیتوں کیلئے اسکالرشپ، فیس باز ادائیگی جیسی اسکیمات متحدہ آندھرا پردیش سے عمل کی جارہی ہیں۔ تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے اقلیتوں کو صنعتوں اور تجارت سے جوڑنا اہمیت کا حامل ہے۔ کے سی آر حکومت نے اس سلسلہ میں T-Prime اور T-SEZ اسکیم کا آغاز کیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اس اسکیم کے تحت مسلمانوں کو صنعتوں کے قیام کے سلسلہ میں مدد دی جائے گی۔ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے طرز پر مسلمانوں کو اسپیشل اکنامک زونس میں صنعتوں کے قیام کیلئے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اقلیتوں میں اس اسکیم سے امید جاگی تھی کہ صنعتکاروں میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام بھی شامل ہوجائیں گے لیکن یہ اسکیم محض اعلان تک محدود ہوچکی ہے۔حکومت نے مذکورہ اسکیم کے سلسلہ میں 13 مارچ 2018 کو جی او ایم ایس 16 جاری کیا تھا اور عنقریب گائیڈ لائنس کی اجرائی اور اسکیم کی تفصیلات کا تیقن دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے اسکیم پر عمل آوری کیلئے آج تک گائیڈ لائینس تیار نہیںکئے۔ گزشتہ 2 برسوں سے اقلیتی بہبود کے بجٹ میں T-Prime اور T-SEZ کیلئے 25 کروڑ روپئے مختص کئے گئے لیکن ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ اقلیتوں کو صنعتی شعبہ میں ترقی دینے میں حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں ایک بھی اقلیتی امیدوار کو صنعت کے قیام کے سلسلہ میں حکومت سے مدد نہیں کی گئی۔ مذکورہ اسکیم کے علاوہ دیگر اسکیمات کے سلسلہ میں بجٹ کی اجرائی کا موقف انتہائی افسوسناک ہے۔ جاریہ سال پہلے سہ ماہی کی مدت ختم ہونے کو ہے لیکن کئی اقلیتی اداروں کو پہلے سہ ماہی کے بجٹ سے ایک روپیہ بھی جاری نہیں ہوا ہے۔ اس طرح حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ جب تک حکومت صنعتوں کے قیام کے سلسلہ میں دیگر طبقات کی طرح اقلیتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی اسوقت تک صنعتی شعبہ میں اقلیتوں کی نمائندگی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ ایسے وقت جبکہ خلیجی ممالک سے بڑی تعداد میں این آر آئیز وطن واپس ہورہے ہیں تلنگانہ حکومت کو صنعتوں کے قیام کے سلسلہ میں ان کی مدد کرنی چاہیئے تاکہ طویل عرصہ تک ملک کے باہر خدمات انجام دینے کے بعد واپس ہونے والے افراد اپنے وطن میں بیروزگار نہ ہوجائیں۔ وہ اپنی بچی ہوئی پونجی چھوٹی صنعتوں کے قیام میں خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ مذکورہ اسکیم پر عمل آوری کیلئے گائیڈ لائنس کا اعلان کرے اور محکمہ اقلیتی بہبود میں اس کے لئے خصوصی سیل قائم کیا جائے۔