حیدرآباد۔/12جون، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اقلیتوں کے تحفظات سے متعلق وعدہ کی تکمیل کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایمسیٹ کے نتائج جاری ہوچکے ہیں اور میڈیسن میں داخلہ کیلئے کونسلنگ کا آغاز 25جون سے ہورہا ہے جبکہ انجینئرنگ کی کونسلنگ 29جون سے شروع ہوگی۔ حکومت نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کیلئے تعلیم اور روزگار میں12فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے لہذا حکومت کو چاہیئے کہ وہ کونسلنگ کے آغاز سے قبل ہی اس سلسلہ میں ضروری اعلامیہ بصورت آرڈیننس جاری کرے تاکہ جاریہ تعلیمی سال سے ہی مسلمانوں اور درج فہرست اقوام کے طلبہ کو داخلوں میں تحفظات کے فوائد حاصل ہوسکیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اگر حکومت آرڈیننس کی اجرائی میں تاخیر کرے گی تو طلبہ کا ایک سال ضائع ہوجائے گا اور وہ تحفظات کے ثمرات سے محروم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں چندر شیکھر راؤ حکومت کا امتحان ہے کہ وہ تحفظات کی فراہمی میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو 4فیصد تحفظات کی فراہمی کانگریس کا کارنامہ ہے اور عدالتی کشاکش کے باوجود تحفظات پر عمل آوری کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس نے تحفظات کے علاوہ پیشہ ورانہ کورسیس میں تعلیمی فیس کی ادائیگی کی اسکیم کا بھی آغاز کیا تھا۔ انہوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ تحفظات اور فیس ریمبرسمنٹ اسکیم کے بارے میں حکومت کے موقف کی وضاحت کریں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں اقلیتی طلبہ کو فیس ریمبرسمنٹ کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث اقلیتی طلبہ میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ چندرشیکھر راؤ اگر تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں سنجیدہ ہوں تو انہیں چاہیئے کہ میڈیسن اور انجینئرنگ کی کونسلنگ سے قبل ہی تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں آرڈیننس کی اجرائی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی تحفظات میں اضافہ سے متعلق ٹی آر ایس حکومت کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتی ہے۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ تحفظات میں اضافہ کیلئے درکار تمام قانونی اور دستوری قواعد کی تکمیل کو بھی یقینی بنایا جائے بصورت دیگر تحفظات کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوسکتی ہیں۔