حیدرآباد۔/18ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست میں جاریہ سال اقلیتوں سے متعلق دو اہم اسکیمات پر عمل آوری خطرہ میں دکھائی دے رہی ہے۔ اقلیتی طلبہ کی اسکالر شپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے علاوہ بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی اجرائی سے متعلق اسکیمات پر حکومت کی عدم توجہ کے باعث جاریہ سال عمل آوری مشکل دکھائی دے رہی ہے۔ محکمہ کے اعلیٰ عہدیدار خود بھی یہ اعتراف کررہے ہیں کہ جاریہ سال ان اسکیمات پر عمل کرنا دشوار ہے۔ مالیاتی سال کے اختتام کیلئے صرف تین ماہ باقی ہیں ایسے میں ان دونوں اہم اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز نہیں ہوا۔ اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی میں دلچسپی کا دعویٰ کرنے والی حکومت اسکالر شپ اور فیس بازادائیگی اسکیمات کے شرائط و قواعد کو طئے کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ حکومت نے بجٹ میں اس اسکیم کیلئے 500کروڑ روپئے مختص کئے لیکن ان کا خرچ ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ تلنگانہ حکومت نے فیس بازادائیگی سے متعلق سابقہ اسکیم کو منسوخ کرتے ہوئے نئی اسکیم FASTکا اعلان کیا تھا لیکن اسکیم سے استفادہ کیلئے ابھی تک شرائط طئے نہیں کئے گئے جس کے باعث اقلیتی طلبہ سے درخواستوں کی وصولی کا عمل شروع نہیں کیا جاسکا۔
FASTاسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں ہائی کورٹ نے بھی حکومت کی سرزنش کی جس پر حکومت نے جلد شرائط طئے کرنے کا تیقن دیا۔ جاریہ سال اسکالر شپ اور فیس بازادائیگی پر عمل آوری تو کجا گزشتہ دو برسوں کے بقایا جات طلبہ کو ادا نہیں کئے گئے جس کے باعث ہزاروں طلبہ پریشان ہیں اور کالجس کی جانب سے فیس کی ادائیگی کیلئے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران 175کروڑ روپئے کے بقایا جات کی ادائیگی کی جانی ہے جس میں سے حکومت نے 75کروڑ روپئے جاری کئے اور مزید 100کروڑ کی اجرائی باقی ہے۔ جب تک حکومت بقایا جات ادا نہیں کرتی اسوقت تک طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محکمہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اگر حکومت اندرون ایک ماہ FASTاسکیم کے قواعد طئے کرتی ہے تب بھی جاریہ تعلیمی سال اسکیم پر عمل آوری ممکن نہیں۔ اسی طرح غریب اقلیتوں کو بینکوں سے قرضوں سے مربوط سبسیڈی کی اجرائی کیلئے درخواستوں کی وصولی کا ابھی تک آغاز نہیں ہوا جبکہ تلنگانہ میں گزشتہ سال اس اسکیم کے تحت 18کروڑ روپئے بطور سبسیڈی کی اجرائی باقی ہے۔
حکومت نے ریاست کی تقسیم کے بعد سبسیڈی کی اجرائی کو روک دیا تھا۔اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے اس اسکیم پر عمل آوری کی جاتی ہے اور کارپوریشن نے حکومت کو بطور سبسیڈی 18کروڑ کی اجرائی کی خواہش کی لیکن ابھی تک رقم جاری نہیں کی گئی۔ اب جبکہ گزشتہ سال کی سبسیڈی ابھی تک جاری نہیں ہوئی کس طرح جاریہ سال اسکیم پر عمل آوری ہو پائے گی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سبسیڈی سے متعلق اسکیم پر عمل آوری کیلئے کم سے کم تین تا چار ماہ درکار ہوں گے لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے جاریہ سال اسکیم پر عمل آوری ممکن نظر نہیں آتی۔ اسکالر شپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے علاوہ سبسیڈی کی اجرائی کے سلسلہ میں روزانہ سینکڑوں افراد اقلیتی فینانس کارپوریشن کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ طلبہ اور امیدواروں نے شکایت کی کہ کارپوریشن کے ملازمین اور عہدیداروں کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ پہلے تو عہدیدار اپنی نشست پر موجود نہیں رہتے اور طلبہ کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی عہدیدار سے ملاقات کی جائے تو وہ تشفی بخش جواب دینے کے بجائے گھر بیٹھ کر انتظار کرنے کی صلاح دیتا ہے۔