امیدواروں کے عوامی خدمت کے ریکارڈ کو پیش نظر رکھنے کا مشورہ
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل : ( پریس نوٹ) : جمعیتہ علماء آندھرا پردیش کی جانب سے عوام خصوصا اقلیتی طبقات میں ووٹ کی ضرورت اور اہمیت کے تعلق سے شعور بیدار کرنے خصوصی مہم چلائی جارہی ہے ۔ صدر مولانا حافظ پیر شبیر احمد ایم ایل سی کی قیادت میں علما تمام اضلاع ، منڈلوں اور مواضعات کا دورہ کرکے عوام سے ربط کررہے ہیں اور ان کو ووٹ کی اہمیت سے واقف کروارہے ہیں ۔ حافظ پیر شبیر احمد کے علاوہ جمعیتہ کے ضلعی صدور و معتمدین اور دیگر قائدین عوام سے ربط کررہے ہیں ۔ مولانا پیر شبیر احمد نے کہا کہ جمہوریت میں ووٹ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور ووٹر حکومت تشکیل دینے کے فیصلے کرتے ہیں ۔ اس لیے ووٹ کی اہمیت کو نظر انداز کرنا نادانی ہوگی ۔ پانچ سال میں ایک مرتبہ پارلیمنٹ اور اسمبلی کیلئے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقعہ آتا ہے جو ہم کو ہماری پسند کی حکومت تشکیل دینے میں مدد دیتا ہے ۔ اگر ہم پانچ سال میں ایک مرتبہ ایک آدہ گھنٹہ نکالنے میں کوتاہی کریں تو اس کا یہی مطلب ہوگا کہ ہم کو حکومت بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور ہم اس عمل سے لا تعلق ہیں ۔ پھر اس کے بعد اگر کوئی غلط پارٹی جو ہمارے مفادات کی دشمن ہے اقتدار پر آجاتی ہے تو ہم کو آگے چل کر کسی حکومت کے غلط اور نامناسب رویہ کے خلاف کسی قسم کا شکوہ شکایت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں موجود تمام امیدواروں اور پارٹیوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ یہ امیدوار اور پارٹیاں کن نظریات کی حامل ہیں ماضی میں انکا رول کیا رہا ہے ۔ انہوں نے عوام کی کس قدر خدمت کی ہے ۔ اقلیتی طبقات کے تعلق سے ان کا رویہ کیسا ہے ۔ اگر نئے امیدوار ہیں تو پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ ان کے اندر عوام کی خدمت کا جذبہ کتنا ہے ۔ اگر کسی پارٹی کی تائید کی جارہی ہے تو یہ دیکھئے کہ وہ پارٹی جمہوریت اور سیکولرازم میں کس قدر یقین رکھتی ہے ۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے کہاکہ رائے دہندوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ اس وقت صرف دو ہی گروپ طاقتور ہیں ایک بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے کا اور دوسری کانگریس کی قیادت میں یو پی اے کا ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اکثر جماعتیں اقتدار کی خاطر این ڈی اے میں شمولیت اختیار کرچکی ہیں یا پھر آگے چل کر این ڈی اے میں شامل ہونے والی ہیں ۔ اس کا اندازہ کرتے ہوئے ووٹ دیا جائے ۔