اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوشش کا الزام

یروشلم۔15مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) جاریہ ہفتہ کے عام انتخابات سے قبل اسرائیل میں اپوزیشن سرگرم ہوگیا ہے ۔ جب کہ جارحانہ فطرت وزیر اعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو نے غیر ملکی حکومتوں پر اور اہم شخصیات پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انہیں اقتدار سے بید خل کرنے کیلئے لاکھوں ڈالرس خرچ کررہی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کو انٹرویوز دیتے ہوئے وزیراعظم اسرائیل نے اپنے حریفوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جارحانہ رویہ اختیار کیا اور کہا کہ وہ دائیں بازو کے رائے دہندوں کو ترغیب دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ اجتماعیطور پر اُن کی تائید کریں تاکہ وسطی بائیں بازو کے اتحاد کو جس کی قیادت صیہونی یونین کے قائد آئیزک ہرزاگ کررہے ہیں ‘ اقتدار سے دور رکھا جاسکے ۔ انہوں نے اپنے الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے ایک مقامی روزنامہ کو انٹرویو میں کہا کہ زبردست بین الاقوامی کوشش ہورہی ہے

جس میں بھاری رقم خرچ کی جارہی ہے ۔ اس میں بائیں بازو کی تنظیمیں جو امریکہ میں سرگرم ہیں ‘ ذرائع ابلاغ کی اہم شخصیات کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے لیکوڈ پارٹی کی حکومت کو جس کے وہ سربراہ ہیں اقتدار سے بیدخل کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ رائے عامہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کی بہ نسبت اس دوڑ میں پیچھے ہیں جب کہ اپوزیشن کو روزبروز طاقت حاصل ہورہی ہے ۔ نتن یاہو نے کہا کہ وہ اُن تمام طاقتوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اُن کے خلاف ہے ۔ وہ ایک بات جانتے ہیں کہ جب بھی وقت آئے گا یہ اتحاد ایک منٹ کیلئے بھی نہیں ٹک سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حیثیت قانونی ہو یا نہ ہو ایک بات یقینی ہے کہ غیر ملکی حکومتوں کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کریں ۔

ہر قسم کے عطیہ دہندگان بھی اُن کے خلاف سرگرم ہیں ۔ 65سالہ وزیراعظم اسرائیل تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ کونسی طاقتیں ہیں جو انہیں اقتدار سے بیدخل کرنا چاہتی ہے ۔ صرف اتنا کہا کہ غیر واضح یوروپی حکومتیں انہیں شکست دینے کیلئے حریف طاقتوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ۔ ان کی کابینہ کے ایک سینئر وزیر یووال اسٹینٹز نے کہا کہ اس کوشش میں امریکہ بھی ملوث ہے ۔ وزیراعظم اسرائیل مسلسل طور پر صدر امریکہ بارک اوباما کے خلاف صف آراء ہیں اور امریکی قائد کی جانب سے امریکی کانگریس سے نتن یاہو کے خطاب کی اہمیت کم کرنے کی صدرامریکہ کوشش کررہے ہیں ۔ اس خطاب کی وجہ سے دونوں قائدین کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ نتن یاہو شخصی طور پر صدارتی انتخابات کیلئے آخری بار بیانات کے ذریعہ اوباما پر اثرانداز ہونے کی کوشش میں ہے ۔54سالہ ہرزاگ نے ٹی وی چینل 2پر کہا کہ بین الاقوامی برادری جانتی ہے کہ نتن یاہو کمزور ہوگئے ہیں ‘ صیہونی یونین کے قائد رائے عامہ کے سروے کے نتائج کے بموجب لیکوڈ پارٹی پر معمولی سبقت رکھتے ہیں ۔