اقامتی اردو میڈیم جونیر کالجس انگریزی میڈیم میں تبدیل

حیدرآباد ۔ 11 ۔ جون : ہندوستان میں آزادی کے بعد سے مسلمانوں کو معاشی ، تعلیمی ، سیاسی اور زندگی کے دیگر شعبوں میں پسماندہ رکھنے کی منصوبہ بند کوششیں کی گئیں اس طرح جنگ آزادی میں ’ انقلاب زندہ باد ‘ جیسا ولولہ انگیز اور انقلابی نعرہ عطا کرنے والی زبان کو بھی مسلمانوں سے جوڑ کر تعصب و جانبداری کا نشانہ بنایا گیا ۔ نتیجہ میں شرفاء و معززین کی زبان اردو روزگار سے دور کردی گئی ۔ اس کے باوجود انصاف پسند ہندوستانیوں اور مسلم اقلیت نے اس زبان کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا اور خاص طور پر تحریک و متوسط مسلمانوں نے اپنے بچوں کو اردو ذریعہ تعلیم سے تعلیم دلوائی اور چوبی عمارتوں کو جس طرح دیمک کتابوں کی طرح کھا جاتی ہے اسی طرح تعصب اور فرقہ پرستی کسی بھی قوم کی ترقی کو تباہی میں بدل دیتی ہے ۔ ایسا ہی کچھ اردو اور مسلمانوں کے ساتھ ہوا ۔ متحدہ آندھرا پردیش میں بھی بار بار اردو کو اس کا مستحقہ مقام دلانے کے مطالبات کئے گئے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوا ۔ حکومتوں نے وقتی طور پر مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی اور کئی ایک اعلانات بھی کئے تاہم عملی طور پر ان کی ترقی کو روکنے کا سامان کیا گیا ۔ قارئین ۔

آپ کو یاد دلادیں کہ متحدہ آندھرا پردیش میں اقلیتوں کے لیے جملہ 24 ( تلنگانہ میں 12 اور آندھرا میں 12 ) اقامتی اردو میڈیم اسکولس اور 5 ( دو تلنگانہ میں اور تین آندھرا ) میں اقامتی اردو میڈیم جونیر کالجس قائم کئے تھے ۔ لیکن بعص اعلیٰ عہدہ داروں کی اردو اور مسلم دشمنی کے سبب ان تمام کالجس اور اسکولس کو انگریزی میڈیم میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ دفتر سیاست پر اولیائے طلبہ اور محبان اردو نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کو اردو اقامتی اسکولوں اور کالجس کو انگریزی میڈیم میں تبدیل کئے جانے کے بارے میں بتایا ۔ راقم حروف نے اس سلسلہ میں مزید معلومات حاصل کیں ۔ جس پر پتہ چلا کہ آندھرا اور تلنگانہ میں اردو میڈیم اسکولوں اور کالجس کو ختم کرنے کی ا یک منصوبہ بند سازش پر مرحلہ وار انداز میں عمل کیا جارہا ہے ۔ وائی ایس آر کے دور میں غریب طلبہ کو معیاری انگریزی اسکولوں میں تعلیم دلوانے کے نام پر متوازی جماعتوں کا آغاز کیا گیا ۔ ان اسکولوں میں پہلی زبان اردو رکھتے ہوئے ایک طرح سے اردو والوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی گئی اور اردو میڈیم کو ہی برخاست کرنے کے اقدامات کئے گئے ۔ حالانکہ یہ تمام حقیقی طور پر اردو میڈیم اسکول تھے ۔ اردو میڈیم کی برخاستگی کے عمل میں دو سال قبل اس وقت شدت پیدا ہوئی جب اردو دشمن ایک اعلیٰ عہدہ دار نے بہت ہی مکاری کے ساتھ کام کرتے ہوئے اردو میڈیم اقامتی اسکول اور کالجس کی شناخت کو مرحلہ وار انداز میں مٹانے کا آغاز کردیا ۔ اس نے آدھی نشستیں اردو میڈیم اور آدھی نشستیں انگریزی میڈیم کے لیے مختص کردیں اور پھر آہستہ آہستہ اردو میڈیم برخاست کرتے ہوئے اسے انگریزی میڈیم میں تبدیل کردیا ۔

اردو اقامتی کالجس میں داخلے کے لیے جو بھی غریب طلباء رجوع ہورہے ہیں انہیں یہ کہہ کر داخلے دینے سے انکار کیا جارہا ہے کہ یہ کالجس اردو میڈیم نہیں بلکہ انگریزی میڈیم ہے ۔ اس متعصب عہدہ دار کے باعث اقلیتوں کے لیے قائم کردہ اردو میڈیم کالجس کو انگریزی میڈیم میں تبدیل کر کے غیر اقلیتی طلباء کو داخلے دئیے جارہے ہیں ۔ حال ہی میں ایل بی نگر اور نظام آباد میں واقع اردو میڈیم اقامتی کالجس سے داخلے کے لیے رجوع ہونے والے اردو میڈیم طلباء کی درخواستوں کو مسترد کردیاگیا ۔ اسی طرح وائیلاپاڈو چتور میں اقلیتی طالبات کے لیے اردو میڈیم اقامتی جونیر کالج قائم کیا گیا تھا ۔ دو سال تک بہت ہی عمدہ طریقہ سے اس کالج نے کام کیا لیکن اب اسے انگریزی میڈیم کردیا گیا ۔ اولیائے طلباء کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ متعصب عہدہ دار اردو میڈیم طلبہ کو حصول علم سے روکنے کے خواہاں ہیں ۔ واضح رہے کہ ہم نے تلنگانہ میں جن 12 اردو اقامتی اسکولس کا ذکر کیا ہے ان میں بارکس حیدرآباد کا ایک حیات نگر رنگاریڈی میں ایک ، ابراہیم پٹن میں ایک ( لڑکیوں کے لیے ) ، محبوب نگر اور ونپرتی میں 2 ، میدک ( سنگاریڈی اور ظہیر آباد ) میں 2 ، نظام آباد میں 2 ، ورنگل میں ایک اور نلگنڈہ کے 2 اسکولس شامل ہیں ۔جب کہ تلنگانہ میں ایل بی نگر حیدرآباد اور ناگارم نظام آباد میں ہی اردو میڈیم اقامتی جونیر کالجس ہیں۔ آندھرا کے گنٹور ، کرنول اور چتور میں تین اردو میڈیم اقامتی جونیر کالجس کام کررہے تھے جنہیں اب انگریزی میڈیم میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ ان کالجس کی اہم بات یہ ہے کہ دو سال میں طلبہ پر صرف 3000 روپئے مصارف آتے تھے چنانچہ غریب مسلم طلباء وطالبات کے لیے یہ کسی نعمت سے کم نہیں تھے ۔

تاہم متعصب و اردو دشمن اعلیٰ عہدیداروں کے باعث اردو میڈیم اسکولس کے 6 ہزار اور جونیر کالجس کے تقریبا 1500 طلباء اردو ذریعہ تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں ۔ اسی طرح ان اسکولوں کو انگریزی اسکولوں میں تبدیل کرنے سے 240 اساتذہ اور 15 تا 20 اردو میڈیم لکچررس کا روزگار متاثر ہونے کے خدشات پائے جاتے ہیں ۔ ان حالات میں مسلم ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ فورم کے جناب احمد بشیر الدین فاروقی اور جناب نعیم اللہ شریف نے جو اقامتی اسکولوں و کالجس میں غریب مسلم بچے بچیوں کے داخلوں کو یقینی بنانے کے لیے سیاست کے تعاون سے تشہیری مہم چلاتے ہیں ۔ اردو میڈیم اقامتی اسکولس و کالجس کی بحالی کی مہم شروع کی ہے ۔ انہیں امید ہے کہ کے سی آر جو اقلیتوں سے ہمدردی رکھتے ہیں اس ضمن میں ضروری اقدامات کریں گے ۔ اسی طرح آندھرا میں چندرا بابو نائیڈو بھی اردو کے ساتھ انصاف کریں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی اقلیتوں کے اس اہم ترین مسئلہ کے حل میں کیا کرتے ہیں ۔ توقع ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اردو میڈیم مدارس کو بحال کریں گے ۔۔