l انتخابی عمل کو درہم برہم کرنے اور سیکوریٹی فورسیس کو نشانہ بنانے طالبان کی دھمکی
l امریکی امن قاصد زلمے خلیل زاد کی صدر اشرف غنی سے ملاقات
کابل ۔ 8 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) طالبان نے آج انتباہ دیا ہیکہ ملک میں پارلیمانی انتخابات کے دوران سرکاری سیکوریٹی فورسیس پر حملے کئے جائیں گے جبکہ امریکہ کے امن قاصد زلمے خلیل زاد افغانستان میں 17 سال طویل جنگ کے خاتمہ کیلئے افغان قائدین سے بات چیت کیلئے آئے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے انتخابات کو امریکہ کی گھناؤنی سازش قرار دیا۔ 20 اکٹوبر کو منعقد شدنی پارلیمانی انتخابات میں رائے دہی کے عمل کو کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا اور ہم سرکاری سیکوریٹی فورسیس کو نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ایسے لوگ جو انتخابی عمل کو کامیاب بنانے کیلئے سیکوریٹی کی فراہمی کررہے ہیں انہیں بھی نشانہ بنایا جائے گا اور انتخابی عمل کو ناکام کرنے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ مجاہد کے اس بیان کو انگریزی زبان میں شائع کیا گیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ طالبان کو افغانستان کا سب سے بڑا دہشت گرد گروپ تصور کیا جاتا ہے۔ 2001ء میں جب امریکہ نے افغانستان میں فوج کشی کی تھی، اس وقت وہاں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سے ’’کھسیانی بلی کھمبانوچے‘‘ کے مصداق طالبان افغان حکومت اور بین الاقوامی سطح پر اس کی حمایت کرنے والوں کے خلاف وقتاً فوقتاً دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ تاہم یہ تازہ ترین دھمکی ملک میں انتخابات کے انعقاد سے صرف چند روز پہلے ہی سامنے آئی ہے۔ پارلیمانی انتخابات کو آئندہ سال منعقد شدنی صدارتی انتخابات کیلئے ایک آزمائش تصور کیا جارہا ہے جس سے افغانی عوام کے رجحان کا بھی پتہ لگ جائے گا۔ دوسری طرف زلمے خلیل زاد نے اہم افغانی قائدین سے ملاقاتیں کی ہیں۔ گذشتہ ماہ اپنی تقرری کے بعد افغانستان کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے تاکہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی راہ ہموار کی جاسکے۔ طالبان کو امن مذاکرات کی میز پر لانے اب تک کی گئی تمام کوششیں ناکام ہوگئی لیکن زلمے خلیل زاد کو اب بھی یہ امید ہیکہ طالبان کو امن مذاکرات کی میز پر لایا جاسکتا ہے۔ افغانستان کے چیف ایگزیکیٹیو عبداللہ عبداللہ نے افغانستان میں پیدا ہوئے خلیل زاد کے دورہ کا خیرمقدم کیا۔ ٹیلیویژن پر اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کا ایقان ہیکہ اگر قیام امن کی جانب زائد توجہ دی جائے تو کامیابی ایک بار پھر ہمارے قدم چوم سکتی ہے۔ یاد رہیکہ خلیل زاد قبل ازیں کابل، بغداد اور اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ فی الحال وہ دس روزہ علاقائی دورہ پر افغانستان کے علاوہ پاکستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر بھی جائیں گے۔ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر اعلیٰ سطحی قائدین کے ساتھ اتوار کی شب ملاقات کی جہاں انہوں نے ’’افغانستان کی قیادت میں اور افغانستان کے ہی لئے قیام امن کے عمل‘‘ کے موضوع پر بات چیت کی۔