اقوام متحدہ 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام)افغانستان کی طالبان کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں کی تائید کرتے ہوئے ہندوستان نے اقوام متحدہ سے کہا کہ ایسا پروگرام بین الاقوامی حدود کا احترام کرتے ہوئے کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا دستور شفاف ہونا چاہئے اور ایک کامیاب قومی مفاہمتی پروگرام افغان حکومت کے زیر قیادت شفاف اور افغان عوام کی ملکیت ہونا چاہئے ۔ اسے افغانستان کے دستور اور بین الاقوامی حدود کا احترام کرنا چاہئے ۔ اس کیلئے تمام متعلقہ فریقین کے درمیان مخلصانہ تعاون کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان کے مستقل سفیر برائے اقوام متحدہ اشوک مکرجی نے ’’افغانستان کی صورتحال ‘‘کے موضوع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان حکومت افغانستان اور افغان عوام کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے فروغ اور استحکام کی راہ پر پیشرفت کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق طالبان حکومت کے ساتھ مفاہمت کے ذریعہ حکومت افغانستان سے ان کی یکجہتی حاصل کرنا چاہئے ۔ اشوک مکرجی نے دہشت گردی کی لعنت پر بھی اظہار تشویش کیا جو افغانستان کے امن استحکام کیلئے مسلسل خطرہ بنی ہوگئی ہے ۔ حالانکہ بین الاقوامی اور افغانستان کی قومی فوج کے ارکان عملہ دونوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے اور قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گرد اور انتہا پسند گروپس ہنوز باقی ہے ۔ حالانکہ ان پر زبردست فوجی دباو ڈالا گیا ہے ۔ ان کی رسائی بین الاقوامی دہشت گرد اور مجرم نیٹ ورکس تک برقرار ہے ۔