افغان رکن پارلیمنٹ پر خودکش حملہ‘ 3 شہری ہلاک

کابل۔ 16؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اہم خاتون رکن پارلیمنٹ پر خودکش حملہ میں 3 عام شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے جب کہ رکنِ پارلیمنٹ کو معمولی چوٹیں آئیں۔ خاتونِ رکنِ پارلیمنٹ شکریہ برک زئی خواتین کی حقوق کی کارکن ہیں اور وہ صدر اشرف غنی کی اتحادی ہیں۔ افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان صدیقی صدیقی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’شکریہ برک زئی کی حالت ٹھیک ہے اور ان کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’بدقسمتی سے اس حملہ میں 3 عام شہری ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں۔‘ اطلاعات کے مطابق شکریہ برک زئی پارلیمنٹ کے دیگر ارکان کے ہمراہ قافلہ میں اپنی گاڑی میں پارلیمنٹ کی عمارت کی جانب جارہی تھیں کہ موٹر کار ان کی گاڑی سے ٹکرانے کی کوشش کی گئی اور حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکو خیز مواد سے اُڑالیا۔ افغانستان میں بم دھماکے اور خودکش حملے ہوتے رہے ہیں اور ان میں اکثر افغان طالبان ملوث ہوتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے حالیہ دو بم حملوں میں کم از کم 10 ملازمین پولیس ہلاک ہوئے تھے۔ افغان عہدیدار کے مطابق پہلا حملہ کابل کے جنوب میں مشرقی صوبہ لوگر میں ہوا جہاں خودکش حملہ آور نے ملازمین پولیس کو نشانہ بنایا۔ عہدیداروں کے مطابق اس حملہ میں ایک پولیس افسر سمیت 7 ملازمین پولیس مارے گئے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور فوجی وردی میں ملبوس تھا اور اس نے کمانڈر کو اُس وقت نشانہ بنایا، جب وہ اپنے دفتر پہنچے۔ مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد میں پولیس کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔ صوبائی ترجمان احمد ضیاء عبدالزئی کے مطابق اس حملہ میں 3 ملازمین پولیس مارے گئے۔