کابل ۔ 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان میں 2001ء کے بعد سے ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ عیدالفطر کی صبح اپنے ساتھ امن کا پیغام لیکر آئی ہے۔ یاد رہیکہ 2001ء وہی سال ہے جب امریکہ نے 9/11 کے بعد افغانستان پر فوج کشی کی تھی۔ طالبان نے تقریباً 17 سال بعد عیدالفطر کے ایام میں جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔ دارالحکومت کابل میں صبح کے وقت نوجوان اور عمر رسیدہ افراد کی کثیر تعداد بہترین ملبوسات پہنے ہوئے عیدگاہوں اور مساجد کی جانب جاتی ہوئی نظر آئی۔ عیدالفطر کی نماز بعد نماز فجر اور ظہر سے قبل ادا کی جاتی ہے۔ اس موقع پر 17 سالہ سمیع اللہ نے شاہ دوشمشیرا مسجد کے باہر عیدالفطر کی نماز کے بعد کہا کہ ہر عید کے موقع پر دہشت گردانہ حملے دیکھ دیکھ کے ہمارا بچپن گزر گیا اور ہم جوانی کی دہلیز پر پہنچ گئے۔ اب ہم توقع کرتے ہیں کہ حالات بہتر ہوجائیں گے۔ جوتوں پر پالش کرنے والے ایک 14 سالہ لڑکے نے بتایا کہ وہ مساجد کے باہر جوتے پالش کرکے اپنی روزی روٹی کماتا ہے اور اس نے اپنی 14 سالہ زندگی میں کوئی عید بغیر لڑائی کے نہیں دیکھی۔