افغانستان میں سلسلہ وار خودکش حملے، 20 افراد ہلاک

کابل۔ 14؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ افغانستان میں طالبان تخریب کاروں نے آج سلسلہ وار بندوق بردار اور خودکش حملوں میں کم سے کم 20 افراد کو ہلاک کردیا، جس سے اس ملک میں امریکہ کی زیر قیادت ناٹو افواج کی اپنے مشن کی تکمیل کے بعد واپسی سے قبل بگڑتی ہوئی سکیوریٹی صورتِ حال کا اظہار ہوتا ہے۔ ایک خودکش بمبار حملہ نے آج ایک افغانی فوجی بس کے پرخچے اُڑادیا۔ قبل ازیں کابل میں ہی طالبان نے سپریم کورٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ علاوہ ازیں بارودی سرنگوں کی صفائی میں مصروف 12 ورکرس کو جنوبی افغانستان میں گولی ماردی گئی تھی۔ مشرقی افغانستان میں گزشتہ روز ناٹو کے دو سپاہی ہلاک ہوگئے۔ بین الاقوامی فورسس برائے سلامتی اعانت نے دونوں مہلوک سپاہیوں کی شہریت کی شناخت ظاہر کئے بغیر اس خبر کی توثیق کی ہے۔ طالبان نے ان تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ دہشت گرد حملوں کی یہ تازہ ترین لہر طالبان کے خلاف ناٹو کی 13 سال سے جاری جنگ کے 31 دسمبر کو باقاعدہ اختتام سے عین قبل شروع ہوئی ہے۔ ناٹو کی یہ جنگ، اسلامی تخریب کاری کو روکنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ افغانستان میں کشت و خون کی اس تازہ لہر نے تخریب کاری کے کمزور ہوجانے سے متعلق دعوؤں کو غلط ثابت کردیا ہے اور اس خوف و اندیشوں کو اُجاگر کردیا ہے کہ امریکہ کی زیر قیادت فوج کے وجود میں کمی کی صورت میں افغانستان دوبارہ تشدد و غارت گری کی زد میں آجائے گا۔ رواں سال کے اختتام پر افغانستان میں متعین ناٹو فوج کا رول تبدیل ہوجائے گا۔ اس کا جنگی مشن صرف اعانت رول میں تبدیل ہوجائے گا۔ بیرونی فوج کی تعداد جو 2010ء میں 1,30,000 تھی، بھاری تخفیف کے ساتھ 12,500 تک محدود ہوجائے گی۔