جموں 16 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت کے اولین اسمبلی اجلاس کا چہارشنبہ کو آغاز ہونے والا ہے اور اس میں خود اقتدار کی حصہ دار جماعتوں میں ٹکراؤ کا امکان ہے ۔ اس بار یہ ٹکراؤ افضل گرو کی باقیات ان کے افراد خاندان کو حوالے کرنے کے مطالبہ پر ٹکراؤ ہوسکتا ہے ۔ علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی کے مسئلہ پر تنازعہ کے بعد دونوں جماعتوں کے مابین افضل گرو کے مسئلہ پر ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے اور یہ کیفیت ریاستی اسمبلی میں ہوگی ۔ بی جے پی نے 12 مارچ کو کہا ہے کہ وہ ریاستی اسمبلی میں ایک آزاد رکن کی جانب سے افضل گرو کی باقیات کی حوالگی کے مسئلہ پر پیش کی جانے والی قرار داد کی مخالفت کریگی ۔ شمالی کشمیر کے لنگاٹے حلقہ کے آزاد رکن اسمبلی شیخ عبدالرشید نے کہا ہے کہ انہوں نے اسمبلی میں دو قرار دادیں پیش کی ہیں جن میں افضل گروکی باقیات کی واپسی کی قرار داد بھی شامل ہے ۔ بی جے پی کے پہلی مرتبہ کے رکن اسمبلی کویندر گپتا نے آج اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افضل گرو اسمبلی کا مسئلہ نہیں ہے ۔ ہم اس کو روکنے کی کوشش کرینگے اور اس کی مخالفت کرینگے ۔ گپتا امکان ہے کہ اسپیکر کا عہدہ حاصل کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر بی جے پی کا موقف بالکل واضح ہے ۔ پی ڈی پی نے گذشتہ سال بجٹ سشن میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا تاہم اس وقت وہ اپوزیشن میں تھی ۔ بی جے پی کو امید ہے کہ اس مسئلہ پر اسے اپنی حلیف جماعت پی ڈی پی کی بھی تائید حاصل ہوگی ۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ پی ڈی پی ہماری تائید کریگی اور دونوں جماعتیں مل کر اس قرار داد کو ایوان میں شکست دینگی ۔ پی ڈی پی کے ترجمان فردوس ٹاک نے کہا کہ اس مسئلہ پر پی ڈی پی کا اپنا ایک موقف ہے اور بی جے پی کا موقف اس سے مختلف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ اپنا موقف واضح کیا ہے اور پارٹی چاہتی ہے کہ افضل گرو کی باقیات اس کے افراد خاندان کے حوالے کی جائیں ۔