ٹی آر سی کے مذاکرہ سے ماہرین تعلیم کا خطاب
حیدرآباد۔17مئی(سیاست نیوز) اعلی تعلیمی کونسل برائے تلنگانہ پر عائد ذمہ داریوں کی جانب سے توجہہ دلاتے ہوئے سابق رکن قانون ساز کونسل وپروفیسر جرنلزم عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر کے ناگیشور رائو نے کہاکہ تلنگانہ کے نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے میں اعلی تعلیمی کونسل برائے تلنگانہ اہمیت کا حامل شعبہ ہے۔ آج یہاں چندرم حمایت نگر میںمنعقدہ تلنگانہ ریسور س سنٹر کے 174ویں مذاکرے’’ اعلی تعلیمی نظام کونسل‘ مقدمات اور فیصلے‘ تلنگانہ کے اعلی تعلیمی نظام کودرپیش مسائل ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔ پروفیسر ایس ملیش وائس چیرمین ہائیر ایجوکیشنل کونسل برائے تلنگانہ ‘،ڈاکٹر ایل لنگا مورتی سابق وائس چیرمن کاکتیہ یونیورسٹی وپروفیسر اکنامکس‘ڈاکٹر کے متیم ریڈی سابق راجسٹرار مہاتما گاندھی یونیورسٹی ‘ نلگنڈہ ریٹائرڈ اسوسیٹ پروفیسر‘پروفیسر گھنٹہ رمیش سابق ہیڈ برٹش کونسل‘ حیدرآباد مسٹر کے سدھاکر گوڑ کے علاوہ دیگر ماہرین تعلیم نے بھی خطاب کیا۔پروفیسر ناگیشوار رائو نے کہاکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد اے پی اعلی تعلیم کونسل کی ہٹ دھرمی اختتام کو پہنچی اس سے قبل تلنگانہ کی نوجوان نسل کو اعلی تعلیم سے محروم کرنے کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی تھی۔ انہو ںنے کہاکہ اعلی تعلیم کے متعلق منعقد ہونے والے سیٹ امتحانات کے طریقہ کار اور انعقاد میںبڑی حد تک تبدیلیاں درکار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ موجود ہ طریقے کار کو برقرار رکھنے سے اعلی تعلیم کے شعبہ میںطلبہ کے بجائے صرف اساتذہ ہی باقی رہ جائیں گے۔انہوں نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کو بھی تلنگانہ کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔