اشرار پر نظر رکھنے ٹاسک فورسیس کے قیام کی ہدایت

سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیوز کو روکنا ضروری : سپریم کورٹ
نئی دہلی 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے ہجومی تشدد اور گاؤ رکھشکوں کی ماؤرائے قانونی نگرانی کی سرگرمیوں کے لئے مرکز اور ریاستوں کو جواب دہ بناتے ہوئے اُنھیں ہدایت کی کہ سوشیل میڈیا کے ان پلیٹ فارمس پر غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز مسیجس اور ویڈیوز کی گشت روکنے اقدامات کئے جائیں کیوں کہ سوشیل میڈیا سے اس قسم کے ویڈیوز اور پیغامات ایسے واقعات بھڑکاتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لئے ریاستی حکومتوں سے کہاکہ وہ ہر فیصلے میں ایک نوڈل آفیسر کا تقرر کرے جس کا رتبہ سپرنٹنڈنٹ پولیس سے کم نہ ہو اور ڈی ایس پی کی جانب سے اس نوڈل آفیسر کی اعانت کی جانی چاہئے۔ جھوٹی خبریں، اشتعال انگیز بیانات اور نفرت انگیز تقاریر پھیلنے میں ملوث ایسے افراد کے بارے میں انٹلی جنس رپورٹ جمع کرنے کے لئے اسپیشل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو (افراد) اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ عدالت نے کہاکہ ’’ریاستوں کو ایسے اضلاع، سب ڈیویژنس اور دیہاتوں کی نشاندہی کرنا چاہئے۔ حالیہ عرصہ کے دوران ہجومی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ نشاندہی کا عمل اس فیصلہ کی تاریخ سے اندرون تین ماہ مکمل کرلیا جانا چاہئے۔ کیوں کہ آج تفصیلات جمع کرنے کے معاملہ میں تیز رفتار دنیا میں یہ وقت کافی ہوگا‘‘۔ عدالت نے کہاکہ نوڈل آفیسر کو مہینہ میں ایک مرتبہ اجلاس منعقد کرنا ہوگا۔ فوجداری ضابطہ 129 کے تحت محصلہ اختیارات استعمال کرتے ہوئے ہر پولیس افسر کو چاہئے کہ وہ ہجوم کو منتشر کرے۔ جس (ہجوم) میں تشدد برپا کرنے یا نگرانی کے بہانے ہجومی تشدد پھیلانے کی ذہنیت اور صلاحیت پائی جاتی ہے۔