اسکیمات پر مؤثر عمل آوری کیلئے اردو آفیسرس کو حصہ ادا کرنے کا مشورہ: محمد محمود علی

حیدرآباد۔ 28 جولائی (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اردو آفیسرس کو مشورہ دیا کہ وہ سرکاری فلاحی اسکیمات پر موثر عمل آوری میں اپنا حصہ ادا کریں۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں تقررکیے گئے گریڈ۔II اردو آفیسرس کے ایک ہفتہ طویل ٹریننگ پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ محکمہ جات میں اردو درخواستوں کا ترجمہ کرتے ہوئے وزراء اور عہدیداروں کو پہنچانا اہم ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ اردو آفیسرس کو اقلیتی بہبود کی اسکیمات سے مکمل واقفیت رکھنی چاہئے تاکہ اقلیتوں میں نہ صرف شعور بیدار کرسکیں بلکہ اسکیمات پر عمل آوری میں ان کا اہم رول ہو۔ محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے اور اردو آفیسرس کا تقرر اس سلسلہ کی پہلی کڑی ہے۔ وزراء کو اردو میں موصولہ درخواستوں کو سمجھنے میں دشواری ہورہی تھی۔ لہٰذا حکومت نے ہر وزیر کے پاس ایک اردو آفیسر مقرر کیا ہے۔ چیف منسٹر کو اردو زبان کی ترقی اور ترویج سے خصوصی دلچسپی ہے۔ انہوں نے آفیسرس کو مشورہ دیا کہ وہ کمپیوٹر سے خود کو ہم آہنگ کریں تاکہ بہتر طور پر خدمات انجام دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر کارکردگی کے ذریعہ اس طرح کا ماحول پیدا کیا جائے کہ دیگر محکمہ جات بھی اردو آفیسرس کے تقرر کی خواہش کریں۔ اس طرح مزید تقررات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ حکومت کے مشیر اے کے خان نے اردو آفیسرس سے کہا کہ وہ آرٹی آئی، سرویس رولس، جاب چارٹ و دیگر متعلقہ امور پر عبور حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ جس قدر زیادہ سیکھیں گے، بہتر خدمات انجام دینے میں مدد ملے گی۔ سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ ٹریننگ کے انعقاد کا مقصد ترجمہ کے علاوہ دیگر امور میں مہارت پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی اسکیمات سے واقفیت کے لیے اردو آفیسرس کو دو دن تک اقلیتی بہبود کی مختلف دفاتر کا دورہ کروایا جائے گا۔ تاکہ وہ اقلیتی اداروں کی کارکردگی سے واقف ہوسکیں۔ ڈاکٹر مادھوی نے خیرمقدم کیا جبکہ ایس ایم نبی نے شکریہ ادا کیا۔