اسکولس کی کشادگی کے قریب ہونے سے اولیاء طلبہ فکرمند

کتابوں کی خریدی پر اسکولس انتظامیہ کی شرط، محکمہ تعلیمات کے احکامات کی خلاف ورزی

حیدرآباد۔8جون ( سیاست نیوز) شہر میں اسکولوں کی کشادگی کے ایام جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں اولیائے طلبہ کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ دونوں شہروں میں اسکولوں کے آغاز سے قبل یونیفارمس ‘ کتابیں ‘ بیاگس کے علاوہ دیگر ضروری اشیاء کی خریداری عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ شہر میں روایت کے مطابق بیشتر اسکولوں کی جانب سے نصابی کتب کی فروخت اسکول میں انجام دی جارہی ہے جو کہ ضلع انتظامیہ کے احکام کے مطابق درست نہیں ہے ۔ اس کے باوجود اسکول انتظامیہ کی جانب سے اولیائے طلبہ پر جو دباؤ ڈالا جارہا ہے اس سے اولیائے طلبہ نہ صرف مالی مسائل کا شکار ہورہے ہیں بلکہ ذہنی تناؤ میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ خانگی اسکولوں میں بیشتر اسکولس ایسے ہیں جو کہ اپنے نصابی کتب اسکول میں ہی قائم کی گئی بک اسٹال کے ذریعہ فروخت کرتے ہیں اور طلبہ یا اولیائے طلبہ کو کتابوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی جاتی تاکہ وہ باہر سے ان کتابوں کو خرید سکے ۔ چند برس قبل تک بھی شہر میں قدیم استعمال شدہ کُتب کی فروخت ہوا کرتی تھی اور اسکولوں کی جانب سے کتابوں کی تفصیلات طلبہ یا اولیائے طلبہ کو فراہم کی جاتی تھی تاکہ اولیائے طلبہ اپنی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی یا پرانی کتب خرید سکیں لیکن فی الحال اسکولوں کی جانب سے نئے نصابی کتب کی خریداری کو لازمی بناتے ہوئے نہ صرف اولیائے طلبہ پر مالی بوجھ عائد کیا جارہا ہے بلکہ استعمال شدہ کتابوں کو دوبارہ استعمال میں لانے کے چلن کو ختم کردیا جارہا ہے جس سے کتابوں کے تحفظ کا جو بچوں میں رجحان ہوا کرتا تھا وہ بھی ختم ہوتا نظر آرہا ہے ۔ ضلع انتظامیہ سے کتابوں کی فروخت کے علاوہ یونیفارمس اور بیاگس کے فروخت کے سلسلہ میں متعدد نمائندگیاں کی جاچکی ہے ‘ ان پر تاحال کوئی احکام اس سال جاری نہیں کئے گئے جس کے سبب اسکولوں کی من مانی کا سلسلہ جاری ہے ۔ سرکاری نصاب جو کہ بازار میں باآسانی دستیاب ہوسکتا ہے اس کیلئے بھی اسکولوں کی جانب سے ایک ایسا ماحول تیار کیا جارہا ہے کہ طلبہ سرکاری نصاب بھی اضافی قیمت پر خریدنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ اولیائے طلبہ کی جانب سے اس بات کی بھی متعدد شکایتیں موصول ہورہی ہیں کہ کئی اسکولس کی جانب سے ہر سال چھوٹی کلاس کے نصاب میں معمولی تبدیلی کی جارہی ہے تاکہ لازمی طور پر بچوں کو نئی کتب خریدنی پڑے ۔ علاوہ ازیں بعض اسکولس تعلیم کے معیار سے زیادہ کتاب کے دیدہ زیب ہونے اور کتاب کی قیمت پر توجہ دیتے ہوئے اسے نصاب میں شامل کررہے ہیں ۔ خانگی اسکولوں کی جانب سے فیس کی وصولی کے متعلق کئی مسائل ہیں جن پر اولیائے طلبہ کی شکایات ہمیشہ کا معمول بن چکی ہے لیکن نصاب کتب کی خریداری کے جو معاملات ہیں اُن کے متعلق اولیائے طلبہ میں اس بات کا احساس پیدا ہورہا ہے کہ نصابی کتب کی فروخت بھی ایک بہت بڑی تجارت میں تبدیل ہوچکی ہے چونکہ اسکولس کی جانب سے اسکول میں قائم کردہ بک اسٹال یا پھر مخصوص دوکان سے کتابوں کی خریدی کی پابندی عوام کے شکوک و شبہات کو یقین میں بدل رہی ہے ۔