نئی دہلی ۔6جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) اقلیتوں میں تعلیمی بیداری مہم اور اس کیلئے جاری کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ چنانچہ سال 2012-13ء میں ثانوی اسکولس میں مسلم طلبہ کے شریک ہونے کا تناسب آبادی کے حساب سے کافی بڑھ گیا ہے ۔وزیر فروغ انسانی وسائل ایم ایم پلم راجو نے بتایا کہ 2006-07ء میں پرائمری اسکولس میں مسلم طلبہ کی تعداد 9.4فیصد تھی جو 2012-13ء میں 14.2فیصد ہوگئی ۔اسی طرح اپرپرائمری سطح پر 7.2فیصد سے بڑھ کر 12.1 فیصد ہوگئی ۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ سات آٹھ سال سے حکومت اسکول کی سطح پر مسلم طلبہ کو تعلیم سے جوڑنے کیلئے کوشش کررہی ہے اور انہیں خوشی اس بات کی ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ انہوں نے اقلیتوں کی تعلیم پر قومی نگرانکار کمیٹی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی آبادی والے علاقوں میں 270ماڈل اسکولس کے قیام کو منظوری دی گئی ہے ۔ بارھویں پنچ سالہ منصوبہ میں 378 جواہر نودیاودیالیہ کے منجملہ 196 خصوصی زمرے کے حامل اضلاع بشمول اقلیتی آبادی والے اضلاع میں قائم کئے جائیں گے ۔
انہوں نے بتایا کہ زیادہ سے زیادہ مسلم بچوں تک رسائی کیلئے سرواسکھشا ابھیان کے تحت مدرسوں کو فنڈس فراہم کئے جارہے ہیں ۔ اس اسکیم کے تحت 17.3 لاکھ طلبہ کو جو مدرسوں میں ہیں مفت تدریسی کتابیں فراہم کی گئی ۔ 40ہزار مدرسوں کے اساتذہ کو ٹریننگ فراہم کی گئی اور 8,235دینی مدارس کو اس اسکیم کے تحت جاریہ سال گرانٹ منظور کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں معیاری تعلیم کی فراہمی اسکیم کے تحت 2009-10ء میں جہاں 1979مدارس کا احاطہ کیا گیا تھا وہیں 2013ء میں 23,146 مدارس کا احاطہ کیا گیا ۔