اسکالر شپس دلانے کے نام پر رقومات کی وصولی کے خلاف سخت انتباہ

خانگی اداروں سے کارپوریشن کی لا تعلقی ، راست کارپوریشن سے رجوع ہونے کا مشورہ : پروفیسر ایس اے شکور
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اگست (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے اقلیتی طلبہ کیلئے اسکالرشپس کی اسکیم کے اعلان کے بعد بعض درمیانی افراد و اداروں کے رول سے متعلق اطلاعات پر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں نے سخت نوٹ لیا ہے۔ مرکزی حکومت کی پری میٹرک ، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس اسکالرشپ کے لئے آن لائین درخواست کی ادخال کے شیڈول کا اعلان کیا گیا جس کے بعد کارپوریشن کے علم میں یہ بات آئی کہ بعض غیر سرکاری ادارے اسکالرشپ دلانے کے نام پر عوام سے رقومات حاصل کر رہے ہیں۔ مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور اور جنرل مینجر ولایت حسین نے اس طرح کے بعض اداروں کے بارے میں شکایات ملنے پر مذکورہ اداروں سے ربط پیدا کرتے ہوئے انہیں پابند کیا کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں سے باز رہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دراصل بعض ادارے اسکالرشپ کے لئے ضروری امور کی تکمیل کے نام پر سرویس چارجس وصول کر رہے ہیں اور انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں اپنی برانچیس قائم کرلیں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ ان خانگی اداروں سے کارپوریشن کا کوئی تعلق نہیں اور نہیں کارپوریشن کا کوئی عہدیدار ان کے ساتھ منسلک ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مسئلہ کے سلسلہ میں راست طور پر کارپوریشن کے عہدیداروں سے رجوع ہوں اور درمیانی افراد کی دھوکہ دہی کا شکار نہ ہوں ۔ بتایا جاتا ہے کہ خانگی اداروں کے ذمہ داروں نے دلیل پیش کی کہ وہ عوام کو اسکالرشپ کے حصول کے سلسلہ میں کارروائی کی تکمیل اور رہنمائی کیلئے سرویس چارجس کے طور پر معمولی رقم وصول کر رہے ہیں۔ ایسے افراد جو ضروری دستاویزات کی تیاری اور ان کی پیشکشی کے طریقہ کار سے واقف نہیں ، وہ ان اداروں سے رجوع ہورہے ہیں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ درخواستوں کے آن لائین ادخال اور ضروری دستاویزات کی پیشکشی کے سلسلہ میں رہنمائی کیلئے کارپوریشن کے عہدیدار موجود ہیں۔ عوام ان سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ ہر ضلع میں موجود اگزیکیٹیو ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دفتر سے رجوع ہوکر رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخواستوں کے ادخال میں کوئی دشوار نہیں ہے اور یہ انتہائی آسان مرحلہ ہے۔ کوئی بھی طالب علم آسانی سے آن لائین درخواست پر کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خانگی اداروں سے کارپوریشن کے کسی ملازمت کی ملی بھگت کا انکشاف ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس اسکالرشپ کے حصول کے سلسلہ میں درمیانی افراد کی دھوکہ دہی کا شکار نہ ہوں کیونکہ کوئی بھی درمیانی فرد یا ادارہ اسکالرشپ منظور کرنے کا اہل نہیں ہے۔ جو بھی درخواستیں ، مکمل اسنادات کے ساتھ داخل کی جائیں گی ، انہیں خاص طور پر اسکالرشپ منظور کی جائے گی ۔ مرکزی حکومت نے اسکالرشپ کے سلسلہ میں اسکول اور کالجس کے رول کو بھی خدمات کردیا ہے اور آئندہ اسکالرشپ کی رقم اسکول اور کالجس کے بجائے راست طور پر طلبہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی۔